کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 517
یا پھر دوسرے پستان کی طرف منتقل ہونے کے لیے اسے خود ہی چھوڑ ے۔اور جب یہ ثابت ہو جائے تو پھر رضاعت کے احکام لاگوہوں گے یعنی حرمت نکاح وغیرہ۔ اگر رضاعت کے باوجود یا پھر اس کی تعداد کے بارے میں شک ہو کہ آیا عددمکمل ہوا ہے کہ نہیں تو اس صورت میں حرمت ثابت نہیں ہوگی اس لیے کہ اصل حرمت کا نہ ہو نا ہی ہے لہٰذا شک کی بنا پر یقین زائل نہیں ہو سکتا۔[1] اس بنا پر اگر حرمت والی رضاعت ثابت نہ ہو سکے تو آپ کی شادی جائز ہے۔ سائل کو میں یہ یاددلانا نہیں بھولوں گا کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم شریعت کے مطابق چلیں اور حق کی اتباع کے مقابلے میں اپنی خواہشات کو چھوڑدیں۔نیز مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ عفت و پاکدامنی اختیار کرتا ہواعشق و محبت سے دور ہے اور اس سے اجتناب کرے اور شریعت اسلامیہ کے مطابق نکاح کرکے اپنی عصمت کو محفوظ کرے۔(شیخ محمد المنجد) غسل جنابت سے پہلے بچے کو دودھ پلانا:۔ سوال۔کیا عورت غسل جنابت کرنے سے پہلے اپنا دودھ بچے کو پلا سکتی ہے؟ جواب۔عورت کا غسل سے قبل بچے کو دودھ پلانا جائز ہے خواہ وہ غسل جنابت ہو یا غسل حیض یا غسل نفاس ان حالات میں بچے کو دودھ پلانے کے لیے غسل کرنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔بلکہ نماز اور ہر وہ عبادت جس کے لیے طہارت واجب ہے اس کے لیے غسل کرنا بھی واجب ہے اور حیض اور نفاس والی عورت کو جب حیض یا نفاس ختم ہو تو ان عبادات کے لیے غسل کرنا واجب ہے اور ایسی عورتوں کو خاوند کی ہم بستری کے لیے حلال ہونے کے لیے بھی غسل کرنا واجب ہے اسی طرح حیض اور نفاس والی عورت قرآن مجید کو نہیں چھوسکتی اس کے علاوہ ہر چیز کو چھوسکتی ہے۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) حمل کے دوران بچے کو دودھ پلانا:۔ سوال۔میں اپنے دس ماہ کے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں اور مجھے حمل بھی ہے،تو کیا مجھے حمل کی وجہ سے اپنے بچے کو دودھ پلانے سے رک جا نا چاہیے یا میں حمل کے باوجود دودھ پلاتی رہوں؟اور کیا دوران حمل بچے کو دودھ پلانا [1] ۔مزید دیکھئے :[المغنی لا بن قدامہ 312/1]