کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 516
اگر رضاعت کی تعداد میں شک ہو جائے:۔ سوال۔میں چچا کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مجھے اس سے بہت زیادہ محبت ہے اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس کی والدہ نے بچپن میں مجھے دودھ پلایا ہے جب ہم نے اس کی والدہ سے رضعات کی تعداد کا پوچھا تو اس کا جواب تھا کہ مجھے یاد نہیں کیونکہ بہت مدت گزر چکی ہےتو کیا اس حالت میں میں اپنے چچا کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہوں؟ جواب۔رضاعت سے حرمت دوشرطوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ 1۔ پانچ یا پانچ سے زیادہ مرتبہ رضاعت ہوئی ہو۔(یعنی مختلف اوقات میں پانچ بار بچے کو دودھ پلایا ہو)اس لیے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ: "پہلے قرآن میں یہ حکم اتراتھا کہ دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت ثابت ہوتی ہے پھر یہ منسوخ ہوگیا اور یہ(نازل ہوا کہ)پانچ مرتبہ دودھ پینا حرمت کا سبب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو یہ قرآن میں پڑھا جاتا تھا۔"[1] 2۔ یہ رضاعت دوبرس کے اندراندرہوئی ہو(یعنی بچے کی عمر کے پہلے دو برس میں)اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: "صرف وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو انتڑیوں کو کھول دے اور دودھ چھڑانے کی مدت(یعنی دوسال کی عمر)سے پہلے ہو۔"[2] امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں بیان کیا ہے۔ دو برس کے بعد رضاعت نہیں اس قول کے بارے میں باب اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ "مکمل دو برس(کی مدت)اس کے لیے ہے جو مدت رضاعت مکمل کرنا چاہے۔ اور﴿رضعۃ﴾کی تعریف یہ ہے کہ بچہ ماں کے پستان کو ایک بار منہ میں لے کر دودھ پئے اور سانس لینے کے لیے [1] ۔[مسلم 1452۔کتاب الرضاع باب التحریم بخمس رضعات موطا607/2۔ابو داؤد 2062۔کتاب النکاح باب ھل یحرم مادوں بخمس رضعات ترمذی 1150۔کتاب الرضاع باب ماجاء لا تحرم المصۃ ولا لمصتان نسائی 100/6۔ابن حبان 4207۔الاحسان ] [2] [صحیح ،ارواء الغلیل 2150ترمذی 1152کتاب الرضاع باب ماجاء ماذکران الرضاعۃ لا تحرم الافی الصغردون الحولین نسائی فی الکبری 301/3۔ابن حبان 125۔المواد]