کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 513
بچے کو ماں کا دودھ پلانے کا حکم اور اس کی حکمت سوال۔کیا کھانا کھانے کی طاقت نہ رکھنے والے بچے کو دودھ پلانا واجب ہے؟ جواب۔جی ہاں جب بچے کو دودھ کی ضرورت ہوتواسے دودھ پلانا واجب ہے فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب تک بچہ رضاعت کی عمر میں دودھ کا محتاج ہواسے دودھ پلانا واجب ہے۔"[1] اور پھر شرعی حکم کے مطابق بھی رضاعت کا حق ثابت ہے لہٰذا جس پر یہ حق واجب ہواسے یہ ادا کرنا چاہیے اور فقہائے کرام نے بھی یہ صراحت کی ہے کہ رضاعت بچے کا حق ہے اس لیے اس کی ادائیگی لازم ہے۔ علمائے کرام کا اجماع ہے کہ رضاعت کی وجہ سے نکاح حرام ہو جاتا ہے اور دودھ پینے والا دودھ پلانے والی کا محرم بن جاتا ہے اس طرح اسے دیکھنا اور اس کے ساتھ خلوت جائز ہو جاتی البتہ اس کی وجہ سے آپس میں وراثت خرچہ اور ولایت نکاح ثابت نہیں ہوتی۔ اہل علم کے ہاں مستحب یہ ہے کہ کسی اچھی اور بہترین اخلاق والی عورت کا دودھ پلایا جائے کیونکہ رضاعت سے طبیعت میں بھی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔بہتر تو یہ ہے کہ والدہ کے علاوہ کسی اور کا دودھ نہ پلایا جائے اس لیے کہ ماں کا دودھ زیادہ نفع مندہے اور اگر بچہ کسی اور عورت کا دودھ پینا قبول نہ کرے تو اس حالت میں والدہ پر اپنا دودھ پلانا واجب ہو جا تا ہے پھر خاص کر اطباء تو ولادت کے بعد ابتدائی مہینوں میں ماں کا دودھ پلانے کی نصیحت کرتے ہیں اور اس پر لوگوں کو ابھارتے ہیں۔ طبعی رضاعت کے طبی فوائد:۔ طبعی رضاعت کے بہت سے طبی فوائد ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں طبعی رضاعت کا حکم دیتے ہوئےکچھ اس طرح فرمایا ہے۔ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ "اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کی مکمل مدت تک دودھ پلائیں(یہ اس کے لیے ہے)جو مدت رضاعت مکمل کرنا چاہتا ہے۔"[2] اس آیت کے نزول کو چودہ سو برس گزر چکے ہیں عالمی تنظیمیں اور کمیٹیاں مثلاً عالمی صحت کی کمیٹی(World Health [1] ۔[الموسوعۃ الفقہیۃ239/22] [2] [البقرۃ :233]