کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 511
ہوتی۔تو اس حیثیت سے یہ معنی مکمل طور پر اس صحیح حدیث کے ساتھ ملتا ہے جس میں یہ فرمایا گیا ہے۔ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ "ایک بستر آدمی کے لیے ایک بستر اس کی بیوی کے لیے تیسرا مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کے لیے ہے۔"[1] اسی لیے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ترجمۃ الباب میں ذکر کرنے کے بعد کہا ہے۔ یہ سب کچھ غیر ضروری اشیاءپر محمول کیا جائے گا لیکن جس کے بغیر گزاراہی نہیں مثلاً رہائش سردی اور گرمی سے بچاؤ کے لیے اشیاء تو وہ اس سے خارج ہیں(یعنی انہیں رکھنے کی اجازت ہے) پھر حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بعض لوگوں کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ساری عمارت تعمیر کرنا ہی گناہ ہے یہ قول نقل کرنے کے بعد اس کا تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے۔ معاملہ اس طرح نہیں بلکہ اس مسئلے میں کچھ تفصیل ہے اور ہر وہ چیز جو ضرورت سے زیادہ ہو اس سے گناہ لازم نہیں آتا۔اس لیے کہ کچھ عمارتوں کی تعمیر ایسی ہے۔جس پر اجرو ثواب ہو تا ہے مثلاً ایسی عمارت جس کی تعمیر سے بنانے والے کے علاوہ دوسرے لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہو تو اس عمارت کی تعمیر سے بنانے والے کو اجرو ثواب حاصل ہوگا۔(واللہ اعلم)[2](شیخ محمد المنجد) [1] ۔[مسلم 2084۔کتاب اللباس والزینۃ باب کراھیہ مازاد علی الحاجۃ من الفواش واللباس ابو داؤد 4142۔کتاب اللباس ،باب فی الفواش نسائی3385۔وفی السنن الکبری 557/3۔ابن حبان 673۔شرح السنۃ للبغوی 3127] [2] ۔دیکھیں :السلسۃ الصحیحۃ 2831]