کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 510
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ﴾ "آپ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم جو بھی خیرو بھلائی کے ساتھ خرچ کرووہ ماں باپ اور رشتہ داروں۔۔۔کے لیے ہے۔"[1](شیخ محمد المنجد) عمارتوں پر خرچ کرنا:۔ سوال۔کیا آدمی کو عمارت کی تعبیر پر خرچ کرنے سے ثواب ملتا ہے؟ جواب۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿أما إن كل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا،إلا ما لا " يعني إلا ما لا بد منه﴾ "خبردار!ہرعمارت اس کے مالک پر وبال ہے مگر جس کے بغیر گزارانہیں ہوسکتا(وہ وبال نہیں)۔"[2] اور خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ﴿يؤجر الرجل في نفقته كلها إلا التراب - أو قال:في البناء﴾ "آدمی کو اس کے ہر قسم کے خرچے پر اجردیا جا تا ہے لیکن مٹی پر خرچ کیا ہوا باعث اجر نہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ عمارت کی تعمیرمیں خرچ کیا ہوا باعث اجر نہیں۔[3] شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ آپ کےعلم میں ہو نا چاہیے کہ اس اور اس سے پچھلی حدیث میں مسلمان کو عمارتیں تعمیر کرنے کا اہتمام اور اسی کا خیال رکھنے سے باز رہنے کا کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ اس کی پختہ تعمیر نہ کرے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندان کے چھوٹے اور بڑے ہونے کے اعتبار سے ضرورت میں بھی اختلاف اور فرق ہے اور کچھ تو بہت ہی زیادہ مہمان نواز ہوتے ہیں اور ان کے پاس بہت زیادہ مہمان آتے رہتے ہیں اور کچھ کی حالت ایسی نہیں [1] ۔[البقرۃ :215] [2] ۔[صحیح السلسلۃالصحیحۃ2830۔ابو داؤد 5237۔کتاب الادب : باب ماجاء فی البناء ابن ماجہ 4161۔کتاب الزھد: باب فی البناء والخراب ] [3] ۔[صحیح السلسلۃ الصحیحۃ 2831۔ترمذی 2483۔کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ابن ماجہ 4163۔کتاب الزہد : باب فی البناء والخراب ]