کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 509
2۔ مذکورہ بالا عزیز و اقارب کے علاوہ دوسرے غیر عمومی رشتہ داروں پر خرچ کرنا اس وقت واجب ہو تا ہے ان میں مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ ساتھ درج ذیل شرط بھی پائی جاتی ہو۔ جس پر خرچ کیا جارہا ہے خرچ کرنے والا اس کا وارث بن سکتا ہو۔ لہٰذا اس بنا پر اگر آپ کے چچا اور والد خرچ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں تو سب آپ کی دادی پر خرچ کر سکتے ہیں۔لیکن آپ احسان کے مسئلے کو نہ بھولیں اور پھر قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا تو دوہرے اجر کا باعث ہے اس لیے کہ اس میں ایک تو صلہ رحمی ہے اور دوسرا صدقہ ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿الصدقة على المسكين صدقة،وهي على ذي الرحم اثنتان؛ صدقة وصلة﴾ "مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار پر صدقہ کرنے میں دوچیزیں شامل ہیں یعنی صدقہ اور صلہ رحمی۔"[1] اور آپ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی یاد رکھیں۔ ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ "اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تمھیں اور زیادہ عطا کرتا ہے اور وہ اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔"[2] لہٰذاقریبی رشتہ دارپر خرچ کرنا اور پھر والد پر تو بہت زیادہ باعث برکت ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اپنی طرف سے اجرو ثواب بھی عطا فرماتے ہیں۔اس لیے آپ کو تو اس پر خوش ہو نا چاہیے کہ آپ کے والد اپنی والدہ اور بہنوں پر خرچ کرتے ہیں اور آپ انہیں اس پر مزید ابھاریں کہ وہ اور زیادہ خرچ کیا کریں اور آپ کے چچاؤں سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں تاکہ ان سے افضل بن سکیں۔ رہا مسئلہ خرچ کرنے کی مقدار کے بارے میں تو اس کے متعلق ہماری گزارش ہے کہ یہ خرچ کرنے والے کی طاقت اور جس پر خرچ کیا جارہا ہے اس کی ضرورت کے مطابق ہے۔ [1] ۔[صحیح ،صحیح ابن ماجہ 1494المشکاۃ1939۔ترمذی 658۔کتاب الزکاۃ باب ماجاء فی الصدقہ علی ذی القرابۃ ابن ماجہ 1844۔کتاب الزکاۃ باب فضل الصدقہ نسائی 2582۔احمد 17/4۔حمیدی 263/2۔ابن حبان 833الموراددارمی 397/1۔ابن ابی شیہ 47/4حاکم 407/1۔بیہقی 27۔7] [2] ۔[سبا :39]