کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 506
3۔ یہ کام دونوں میں سے کسی ایک کی بھی مرض الموت میں نہ ہو۔ 4۔ والد کافر اور بیٹا مسلمان نہ ہو یعنی ان کے دین مختلف نہ ہوں۔ 5۔ وہ چیزبعینہ موجود ہو۔ ہمارے فقہاء کی کلام یہی ہے اور فتویٰ اسی پر ہے۔[1](شیخ محمد المنجد) کافر والد کی طرف سے بال کے مطالبے پر کیا کیا جائے؟ سوال۔میں کچھ عرصہ قبل مسلمان ہوا ہوں اس کے بعد میں نے اپنے والد کے درمیان مالی معاملات کے بارے میں سوچنا شروع کیا ہےتو کیا جب میرا والد مجھ سے مال کا مطالبہ کرے تو مجھے دینا چاہیے؟ جواب۔بیٹے پر والد کو صرف خرچہ دینا لازم ہے اس کے علاوہ اور کچھ بھی دینا ضروری نہیں تاہم اگر بیٹا والد اور کچھ صدقہ کردے تو یہ جائز ہے(اوللہ اعلم)(شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ) کیا شادی شدہ بیٹی والدین پر خرچ کرے گی؟ سوال۔کیا لڑے کی طرح کا مال بھی والدین کی طرف لوٹتا ہے؟اور کیا لڑکی کے ذمہ بھی اسی طریقے سے والدین پر خرچ کرنا واجب ہے؟بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ لڑکی کی شادی کے بعد اگر اس کے بھائی والدین پر خرچ کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو لڑکی کے ذمہ والدین کا خرچہ واجب نہیں؟ اور کیا بیوی کے مال میں خاوند کا کوئی حق ہے؟اور اگر خاوند کا خیال ہو کہ بیوی کا مال والدین پر خرچ کرنا واجب نہیں تو کیا بیوی اس مسئلے میں خاوند کی اطاعت کرے؟اور اگر والدین فقیرہوں اور بیوی کا کوئی خاص مال نہیں تو کیا اس کے خاوند کے ذمہ ہے کہ وہ بیوی کے والدین پر خرچ کرے؟وہ اس طرح کہ والدین کے لیے جائز ہے کہ وہ بیٹی سے زکوۃ کا مال لے لیں لیکن خاوند کے والدین کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیٹے کے مال سے زکوۃ کا مال لیں اس لیے کہ بیٹے پر والدین کا خرچہ واجب ہے؟ جواب۔اولاد ایک ایسا لفظ ہے جس میں بیٹے اور بیٹیاں سب شامل ہیں اور والد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔حدیث میں ہے کہ: [1] ۔دیکھیں: فتاوی ورسائل شیخ محمد ابن ابراہیم آل شیخ (ص/200)