کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 50
امام شوکانی  ’نیل الاوطار‘ میں لکھتے ہیں: اس حدیث میں کنواری لڑکیوں سے نکاح کرنے کے استحباب کی دلیل پائی جاتی ہے،لیکن اگر شادی شدہ سے نکاح کرنے کی کوئی ضرورت پیش آئے تو پھر کنواری سے نہیں بلکہ شادی شدہ سے(نکاح کرنا بہتر ہے)جس طرح کہ جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔[1] علامہ سندھی  نے کہا ہے کہ ’فداک‘ کا معنی یہ ہے کہ تو نے جو شادی شدہ عورت سے شادی کی وہ تو نے بہتر اور اچھا کیا ہے۔ تو آپ نے بھی اس شادی شدہ بچوں والی عورت سے شادی کر کے ایک اچھا اور بہتر کام کیا ہے۔اب اس کے بعد لوگوں کی باتوں سے آپ کو کوئی نقصان نہیں،آپ نے بھی وہی کام کیا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر ازواج مطہرات کنواری نہیں بلکہ پہلے سے شادی شدہ تھیں۔ آپ کی شادی میں آپ کے گھر والوں کی رضا مندی اور موافقت شرط نہیں اور خاص کر جب ان کی مخالفت اس وجہ سے ہے جو کہ آپ نے بیان کی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ آپ پر یہ ضروری ہے کہ آپ نے اپنے والدین کے ساتھ جو سختی کی ہے اس کے لیے استغفار کریں اور ان سے معافی طلب کریں،آپ پر واجب ہے کہ آپ نے اپنے والدین کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا برتاؤ کریں اور انہیں راضی کرنےکی کوشش کریں اور ان کے ساتھ اگر ضرورت پیش آئے تو اچھے اور احسن انداز میں بات چیت کریں تاکہ وہ مطمئن ہو سکیں۔اس سے آپ دو چیزوں کو جمع کر لیں گے،ایک تو اپنی رغبت اور مرضی کی شادی اور دوسری اپنے والدین کی رضا جو کہ اہم بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ حدیث جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ ’’جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔‘‘ ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں۔ابن عباس رضی اللہ عنہ اور انس رضی اللہ عنہ دونوں سے یہ حدیث وارد ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث امام ابن عدی نے اپنی کتاب ’ الکامل‘ میں ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔[2] اور انس رضی اللہ عنہ کی روایت خطیب بغدادی نے نقل کی ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔امام عجلونی  کا کہنا ہے کہ اس باب میں ایک حدیث اور بھی ہے جسے خطیب نے اپنی جامع میں اور قضاعی نے اپنی مسند میں انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ’’ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے‘‘ اس کی سند میں منصور بن المہاجر اور ابو النضر دونوں ہی غیر معروف راوی ہیں اور اسے خطیب نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔[3] [1] (نیل الاوطار: 6/126) [2] (دیکھیں: الکامل لابن عدی: 6/347) [3] (دیکھیں: کشف الخفاء: 1/401)