کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 498
زیورات اور کپڑے پہنے ہوئے دیکھنے کے بعد مجھ سے بھی ان جیسے زیورات اور کپڑوں کامطالبہ کرتی ہے لیکن میری ماہانہ آمدنی دوسری عورتوں کے خاوندوں جیسی نہیں،لہذا مجھے اپنی بیوی سے کس طرح کا معاملہ کرنا چاہیے؟ جواب۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک عظیم الشان حدیث مروی ہے جس میں اس معاملے کو بیان کیاگیا ہے اور اس عمل کو ہلاکت قرار دیا گیاہے،ذیل میں ہم اس حدیث کوبالنص پیش کرتے ہیں: ﴿إن أول ما هلك بنو اسرائيل أن امرأة الفقير كانت تكلفه من الثياب والصيغ أو قال من الصيغة ما تكلف امرأة الغني﴾ "بنو اسرائیل کی ابتدائی ہلاکت یہ تھی کہ ایک فقیر شخص کی بیوی اسے لباس یازیورات لانے کی اتنی تکلیف دیتی تھی جتنی غنی کی عورت زیورات کی تکلیف دیتی ہے۔"[1] لہذا ہمارے مسلمان بھائی آپ پر ضروری ہے کہ اپنی بیوی کو قناعت اور زہد کی تلقین کریں اور اس سے یہ وعدہ کریں کہ اللہ تعالیٰ جب رزق میں کشادگی فرمائے گا تو پھر تجھے یہ سب کچھ لا کر دوں گا۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(شیخ محمدالمنجد) اگر شوہر مالدار ہونے کے باوجود بیوی کو ملازمت کا کہے:۔ سوال۔میری آٹھ ماہ قبل شادی ہوئی میں اپنے خاوند سے بہت محبت کرتی ہوں اور کبھی بھی اس کی نافرمانی نہیں کی اور اس کا بہت احترام کرتی ہوں،شادی سے قبل اس نے مجھے ملازمت کرنے یا نہ کرنے کااختیار دیا تھا۔لیکن شادی کے بعد وہ کہنے لگا ہے کہ مجھ پر ضروری ہے کہ میں ملازمت کروں اور مال کماؤں،لیکن میں ملازمت نہیں کرنا چاہتی اور پھر ہمیں مال کی ضرورت بھی نہیں اسلیے کہ خاوند کی آمدنی کافی ہے۔میرے خیال میں مال ہی ہر چیز کا حل ہے۔ میں آپ سے تعاون چاہتی ہوں کہ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے کیا مجھے اس کی اطاعت کرتے ہوئے ملازمت ضرور کرنی چاہیے؟ہم یورپ میں رہتے ہیں اور میری ملازمت عمومی طور پر غیر مردوں کے اختلاط سے خالی نہیں ہوگی۔ جواب۔آپ پر اس مسئلے میں اس کی اطاعت لازم نہیں اس لیے کہ بیوی کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے اور بیوی پر یہ [1] ۔[صحیح:السلسلۃ الصحیحۃ(591)]