کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 497
کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھاہے اس میں سے(حسب توفیق)دے۔اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔[1] اس لیے بیوی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مطالبات میں کثرت کرکے ا پنے خاوند کے معاملات میں مشکلات اور دشواری پیدا کرے۔کیونکہ ایسا کرنا حسن معاشرت نہیں۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آ پ بیوی کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے معقول مطالبات مان لیں اور بیوی کو بغیر احسان جتلائے اور بغیر تکلیف دیے یہ یاد دہانی کرائیں کہ آپ نے اس کے کتنے مطالبات پورے کیے ہیں جب طاقت تھی تو انہیں کتنی جلدی پورے کردیا کرتا تھا اور بیوی کو اس پرراضی کریں کہ جب طاقت ہوگی تو پھر ایسا ہی ہوگا لیکن ابھی فوری طور پر مزید مطالبات سے رک جائے۔ اسی طرح اس سے برے نرم لہجے میں بغیر کسی لڑائی اور غصہ کے گفتگو کریں اور اسے سمجھائیں کہ جو کچھ وہ مانگ رہی ہے وہ باقی خرچہ پر اثر انداز ہوگا مثلاً گھر کے کرایہ وغیرہ پر اگر وہ نہیں مانگے گی تو یہ سب خرچے آسان ہو جائیں گے۔اس طرح کی بات کرکے ممکن ہے آپ اسے کچھ مطالبات میں کمی کرنے پر راضی کرسکیں۔آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ مالی کمی اس وقت جاتی رہتی ہے۔جب کوئی ا چھی بات اور اچھے وعدے کرلیے جائیں،حسن خلق اور اچھا معاملہ اس تنگی کو جس میں آپ مبتلا ہیں ختم کردے گا اس لیے آپ صبر وتحمل اور اچھے انداز سے معاملات کو چلائیں اور اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو نصیحت کرتے رہیں۔ اگر اس کے باوجود بھی زندگی میں تنگی ہو اور آپ دونوں کے درمیان حالت اس حد تک پہنچ جائے کہ آپ دونوں کسی صورت بھی اکھٹے نہ رہ سکتے ہوں تو پھر ایسی حالت میں طلاق مشروع ہے او یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی حالت میں طلاق ہی دونوں فریقوں کے لیے بہتر ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "اور اگر وہ دونوں علیحدہ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو غنی کردے گا اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور جاننے والاہے۔"[2](شیخ محمد المنجد) بیوی کا دوسری عورتوں کے مہنگے لباس وزیور کو دیکھ کر اپنے شوہر سے مطالبہ:۔ سوال۔میری بیوی پروگراموں،دعوتوں اور تقریبات میں شرکت کرتی ہے اور دوسری عورتوں کو مختلف قسم کے [1] ۔[الطلاق۔7] [2] ۔[النساء۔130]