کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 495
پر حق ہیں اور تمہاری عورتوں کے بھی تم پر حق ہیں۔(ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ)جسے تم ناپسند کرتے ہو وہ اسے تمہارے گھر میں داخل نہ ہونے دیں خبردار!تم پر ان کے حق بھی ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں کھانا پینا اور رہائش بھی اچھے طریقے سے دو۔"[1] اور معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ہم پر کسی ایک بیوی کا حق کیا ہے؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب تم خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ اور جب خود لباس پہنوتو اسے بھی پہناؤ اور اس کے چہرے کو بدصورت نہ کہو اور چہرے پر نہ مارو۔"[2] امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ کہا کہنا ہے: امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ا س حدیث میں عورت کے نان ونفقہ اور لباس کا وجوب پایا جاتا ہے اور وہ خاوند کی حسب استطاعت ہوگا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرچہ ولباس کو بیوی کا حق قرار دیاہے۔تو پھر خاوند حاضر ہویاغائب ہرحال میں عورت کو یہ دینا ہوگا اوراگر اس کے پاس فی الوقت یہ موجود نہ ہوتو خاوند کے ذمہ واجب حقوق کی طرح یہ بھی قرض شمار ہوگا۔ اور وہب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک غلام نے انہیں کہا کہ میں بیت المقدس میں ایک مہینہ قیام کرنا چاہتا ہوں تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے کہنے لگے کیا تو نے اس مہینے کا ا پنے گھر والوں کو خرچہ دے دیا ہے؟اس نے جواب دیا کہ نہیں۔تو وہ کہنے لگے اپنے گھر واپس جاؤ اور انھیں ایک ماہ کا راشن دے کرآؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ: "آدمی کو یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جس کی کفالت کرتا ہے اسے ضائع کردے۔"[3] صحیح مسلم کی روایت میں یہ لفظ ہیں:۔ [1] ۔[حسن صحیح ابن ماجہ(1501) ارواء الغلیل(1997) ترمذی(1163) کتاب الرضاع باب ما جاء فی حق المراۃ علی زوجھا احمد(3/426)ابو داود(3334) ابن ماجہ(1851)] [2] ۔[حسن صحیح۔صحیح ابو داود(1875) کتاب النکاح باب فی حق المراۃ علی زوجھا ابو داود(2142) ابن ماجہ(1850) کتاب النکاح باب حق المراۃ علی الزوج ابن حبان(4175)] [3] ۔[صحیح ابوداود ،ابوداود(1692) کتاب الزکاۃ باب فی صلۃ الرحم ارواء الغلیل(894) صحیح الجامع الصغیر(4481)]