کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 493
نہیں؟اکثر علمائے کرام کا کہنا ہے کہ شادی تک اس پر خرچہ لازم ہے اور یہی قول زیادہ درست ہے اس لیے کہ وہ کمائی کرنے سے عاجز ہے۔(واللہ اعلم)[1](شیخ محمد المنجد) انسان خرچ میں بیوی کو ترجیح دے یا والدہ کو:۔ سوال۔ایک شخص کی والدہ بھی ہے اور بیوی بھی تو کیا وہ خرچہ لباس اور دیگر ضروریات میں بیوی کو والدہ پر ترجیح دے سکتاہے اور اگر وہ ایسا کرے تو کیا وہ گناہگار ہوگا؟ جواب۔اگر وہ والدہ کی ضروریات پوری کرنے والوں میں سے ہے اور وہ والدہ کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور اسے اتنا دیتاہے جو اس کے لیے کافی ہے تو پھر ایسا کرنے سے وہ گناہ گار نہیں ہوگا۔لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ وہ والدہ کے دل کو ٹھیس نہ پہنچائے بلکہ اسے خوش رکھے اور اسے ترجیح دے اور اگر بیوی کو ترجیح دنیا ضروری ہوتو پھر یہ کام خفیہ کرے جس کا علم والدہ کو نہ ہو اور والدہ کے ساتھ بھی حسن سلوک کر تا رہے۔(شیخ محمد المنجد) مرد عورت کے خرچ کا ذمہ دار ہے مگر اسے تنگی میں نہ ڈالاجائے:۔ سوال۔میرے اور میری بیوی کے درمیان مالی معاملات کے بارے میں بہت زیادہ اختلافات رہتے ہیں وہ مجھ سے ہر وقت مہنگی اشیاء کا مطالبہ کرتی رہتی ہے اور میری مالی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی،میں نے شادی سے پہلے اسے اور اس کے میکے والوں کو اپنی مالی حالت کے بارے میں بھی بتایا تھا۔اب میں اور وہ ہمیشہ جھگڑے میں رہتے ہیں وہ مجھے بخیل اور میں اسے فضول خرچ ہونے کاالزام لگاتا ہوں،اب مجھے اس مشکل میں کیا کرنا چاہیے جو کہ علیحدگی تک جاپہنچی ہے؟ جواب۔بیوی کے حقوق میں سے عظیم حق یہ ہے کہ خاوند اس پر خرچ کرے اور اس کانان ونفقہ برداشت کرنا بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے قرب اور اطاعت کابہت بڑا ذریعہ ہے نفقہ ان اشیاء پر مشتمل ہے کھاناپینا،لباس،رہائش،اوربیوی اپنے بدن اپنی بہتر رونق قائم رکھنے کے لیے جس چیز کی محتاج ہو۔آپ نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ آپ کی بیوی نفقہ میں کمی کا شکایت کرتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ مرد ہی عورتوں پر خرچ کرنے والے ہیں ان کا [1] ۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے:الامام لشافعی(8/340) المدونۃ الکبری(2/263) المبسوط(5/223)المغنی لابن قدامۃ(8/171)]