کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 492
جواب۔ایسا کرنا واجب نہیں اس لیے کہ عبادات میں استطاعت شرط ہے اور یہ استطاعت کسی دوسرے سے حاصل نہیں ہوسکتی،اس لیے دونوں پر ایک دوسرے کا خرچہ واجب نہیں۔لیکن اگر والد نے اپنے غنی بیتے سے حج کا خرچہ طلب کیا تو احسان کے اعتبار سے وہ والد کوخرچہ ادا کرے کیونکہ والد کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے لہذا اس اعتبار سے یہ لازم وضروری ہوگا۔(واللہ تعالیٰ اعلم)(شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ) بچوں پر خرچ کرنے کاحکم:۔ سوال۔اولاد پر خرچہ کا کیا حکم ہے اور اس کی کیا حد ہے؟ جواب۔علمائے کرام کا اس پر اتفاق ہے کہ چھوٹے بچے جن کے پاس مال نہ ہو اس وقت تک ان کی خوراک ولباس کاخرچہ والد کے ذمہ ہے جب تک وہ بالغ نہ ہوجائیں۔امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ہمیں اہل علم میں سے جتنے بھی یاد ہیں ان سب کا اس پر اجماع ہے کہ ان بچوں کا خرچہ جن کے پاس مال نہیں والد کے ذمہ ہے اور اس لیے بھی کہ اولاد انسان کا ایک حصہ ہے اور والد کے جگر کا ٹکڑا ہے۔لہذا جس طرح اس کا اپنے آپ اور گھر والوں پر خرچ کرنا واجب ہے اسی طرح اپنی اولاد اور ماں باپ پر خرچ کرنا بھی واجب ہے۔[1] علمائے کرام کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ والد پر اس بیتے کا کوئی خرچہ لازم نہیں جس کے پاس مال ہو اور وہ مستغنی ہو،اگرچہ وہ عمر میں چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔البتہ اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ اگر بیٹا فقیر اور بالغ ہولیکن کمانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اکثر علماء کاخیال ہے کہ والد کےذمہ اس کا خرچہ لازم نہیں اس لیے کہ وہ کمانے کی طاقت ر کھتا ہے اور کچھ علماء کا کہنا ہے کہ بیٹااگر فقیر اور بالغ ہوخواہ وہ کمانے کی طاقت ہی کیوں نہ رکھتا ہو،والد پر اس کاخرچہ لازم نہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیاگیا کہ: والدغنی اور مالدار ہو اور اس کا بیٹا فقیر ہو اور کمائی کرنے سے عاجز ہو اور والد مالدار ہوتو بیتے پر اچھے طریقے سے خرچ کرنا لازم ہے۔[2] علمائے کرام کا اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے کہ اگر بیٹی بالغ ہوجائے تو کیاوالد کے ذمہ اس کا خرچہ ہے یا [1] ۔مزید تفصیل کے لیے د یکھئے :المغنی لابن قدامۃ(8/171)] [2] ۔[مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ(3/363)،(34/105)]