کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 49
ہے(میرے خیال میں ایسے ہی سنا ہے)۔میں گناہ محسوس کرتا ہوں اور اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے بتائیں کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جواب:آپ نے جو ایک مشکل میں پھنسی ہوئی بچوں والی عورت سے شادی کر کے کام کیا ہے وہ بہت اچھا اور قابل تحسین ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے گا اور پھر خاص کر جب وہ عورت دین والی بھی جیسا کہ آپ کے سوال سے ظاہر ہو رہا ہے۔ شریعت اسلامیہ نے دیندار عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دلائی ہے کیونکہ وہ اس کے لیے ایک اچھی بیوی ثابت ہو گی،اپنے آپ کی اور اپنے خاوند کی حفاظت کرے گی اور اولاد کی بھی اس طرح تربیت کرے گی جیسے اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔اپنے خاوند کی نافرمان نہیں ہو گی بلکہ اس کی اطاعت کرے گی۔اسلام میں کنواری لڑکی سے شادی کرنا شادی شدہ کے مقابلے میں افضل اور مستحب ہے لیکن بعض اوقات شادی شدہ کنواری سے بھی افضل اور بہتر ہوتی ہے مثلاً جب اس سے شادی کرنے میں کوئی مصلحت ہو جو کنواری سے شادی کرنے میں نہ پائی جائے،یا پھر شادی شدہ دینی اور اخلاقی طور پر کنواری سے بہتر ہو۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پوچھا،اے جابر!کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟میں نے جواب میں عرض کیا،جی ہاں نکاح کر لیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کنواری سے یا شادی شدہ سے؟میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!میں نے شادی شدہ سے نکاح کیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے،کنواری لڑکی سے کیوں نہیں کیا تو اس سے کھیلتا وہ تجھ سے کھیلتی۔میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:میرے والد جنگ احد میں شہید ہو گئے اور اپنے پیچھے نو بیٹیاں چھوڑیں،میں نے یہ ناپسند کیا کہ میں انہی جیسی ہم عمر لڑکی ان کے پاس گھر میں لے آؤں،اس لیے میں نے چاہا کہ میں ایسی عورت لاؤں جو ان کی تربیت کرے،ان کا خیال رکھے اور اصلاح کرے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لگے:اللہ تعالیٰ آپ کے لیے برکت پیدا کرے یا(راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے)مجھے خیر وبھلائی کی دعا دی۔[1] ایک دوسری روایت میں یہ لفظ ہیں: ’’کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے ہنسی مذاق کرتے اور وہ تمہارے ساتھ ہنسی کرتی۔‘‘ [2] [1] (بخاری: 2097؛ کتاب البیوع، باب شراء الدواب والحمیر؛ مسلم : 715؛ ابوداؤد: 3505؛ترمذی: 1100؛ نسائی: 6/65؛ احمد: 3/ 308؛ حمیدی: 1227) [2] (بخاری: 5367؛ کتاب النفقات: باب عون المرأة زوجها فی ولده؛ مسلم: 715)