کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 487
بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا اجر سوال۔انسان کا اپنے اہل وعیال اور اولاد پر خرچ کرنے کا کیا اجر وثواب ہے؟ جواب۔کتاب وسنت میں بہت دارے دلائل ملتے ہیں جو اولاد پر خرچ کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں اور اس کی فضیلت بیان کرتے ہیں ذیل میں ہم چند ایک دلائل کا ذکر کریں گے: قرآن مجید سے دلائل:۔ ( اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ "اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کاروٹی کپڑا ہے جو دستور کے مطابق ہو۔"[1] ( ایک اور مقام پر فرمایا: ﴿لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنْفِقْ مِمَّا آَتَاهُ اللّٰهُ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْساً إِلَّا مَا آَتَاهَا﴾ "کشادگی و الے کو ا پنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس میں سے(حسب توفیق)دے۔اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔"[2] ( ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ "اور تم پر بھی خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تمھیں اورزیادہ عطا کرتا ہے اور وہ اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔"[3] ( سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے دلائل:۔ 1۔ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ،وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ،وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ،وَدِينَارٌ [1] ۔[البقرہ:233] [2] ۔[الطلاق۔7] [3] ۔ [سباء۔39]