کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 483
إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ﴾ "اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلادینا ہے اوسط درجے کا جو ا پنے گھر والوں کو کھلاتےہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس طاقت نہ ہوتو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھالو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو۔"[1] عورت کا اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرلینا قسم کے حکم میں ہے اسی طرح مرد کابیوی کے سوا اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کسی چیز کو حرام کرلینا بھی قسم کے حکم میں ہی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(1)قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ وَاللّٰهُ مَوْلَاكُمْوَهُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ﴾ ""اے نبی!جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے اسےآپ کیوں حرام کرتے ہیں؟(کیا)آپ اپنی بیویوں کی رضا مندی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والاہے۔بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کارساز ہے اور وہی(پورے)علم والا،حکمت والا ہے۔"[2](شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) اگر کوئی اپنی بیوی کو بہن کہہ دے:۔ سوال۔کچھ لوگ اپنی بیوی کو یوں کہہ دیتے ہیں کہ میں تیرا بھائی ہوں اور تو میری بہن ہے تو اس کا کیاحکم ہے؟ جواب۔جب شوہر اپنی بیوی سے کہتا ہے۔میں تیر ابھائی ہوں یا تو میری بہن ہے یا تو میری ماں ہے یا میری ماں کی طرح ہے یا تو میرے لیے اس طرح ہے جیسے میری والدہ ہے یا تو میری بہن کی طرح ہے"تو اگر ان الفاظ کے کہنے کے ساتھ اس کا ارادہ کرامت،عزت اور احترام میں تشبیہ دینا ہو یا اس کاکوئی ارادہ ہی نہ ہو یا وہاں کوئی ایسے قرائن موجود نہ ہوں جو ظہار کے ارادے پر دلالت کرتے ہوں تو پھر ان الفاظ کے ذریعے ظہار نہیں ہوگا اور [1] ۔[المائدۃ۔89] [2] ۔[التحریم۔1۔2]