کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 482
ایک گردن آزاد کرے اگر وہ اس سے عاجز ہوتو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے اور اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ہر مسکین کو شہر کی عام خوراک مثلا،کھجور،چاول یا اس کے علاوہ دیگر اشیاء سے نصف صاع کھلائے جو(جدید وزن کے مطابق)ڈیڑھ کیلو گرام کے برابر ہے۔یہ اس لیے ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: "جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو چھونے(یعنی ہم بستری)سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمالسےباخبر ہے ہاں جو شخص(غلام آزاد کرنے کی طاقت)نہ پائے اس کے ذمہ دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں۔اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا لازم ہے۔"[1] لہذا آپ کے لیے یہ جائز نہیں کہ آپ اسے اپنے قریب آنے دیں جب تک وہ مذکورہ ترتیب کے مطابق یہ کفارہ ادا کرلے۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) اگر عورت اپنے شوہر سے ظہار کرلے:۔ سوال۔اگر عورت اپنے شوہر سے کہے کہ اگر تو نے ایسے ایسے کیا تو تو مجھ پر اس طرح حرام ہے جیسے میرا باپ مجھ پر حرام ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ جواب۔عورت کا اپنے شوہر کو حرام کرنا یا اسے اپنے کسی محرم رشتہ دار کے ساتھ تشبیہ دینا قسم کے حکم میں ہے اس کا حکم ظہار کا حکم نہیں کیونکہ ظہار صرف شوہروں کی طرف سے ا پنی بیویوں کے لیے ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا نص سے یہ بات ثابت ہے۔ لہذا اس مسئلےمیں عورت پر قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے اور وہ ہے دس مساکین کو کھانا کھلانا،ہر مسکین کو نصف صاع تقریباً ڈیڑھ کیلو گرام شہر کی عام خوراک دے دینا۔وہ انہیں صبح کا کھانا کھلادے یا شام کا کھانا کھلادے یا انہیں اتنا لباس پہنچادے جو انہیں نماز میں کفایت کرتا ہوتو یہ(کفارہ)اسے کافی ہوجائےگا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ [1] ۔[المجادلہ۔3۔4]