کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 479
اپنی بیوی کو اپنی ماں اور بہن کی طرح حرام کرلینا:۔ سوال۔میرے شوہر نے مجھ پر طلاق کی قسم ڈالی ہے اور کہاہے کہ تو مجھ پر میری ماں اور میری بہن کی طرح حرام ہے۔۔۔میں حاملہ تھی اور ساتویں مہینے میں تھی۔میرے گھر والوں نے اسے کہا کہ وہ وضع حمل سے پہلے تیس مساکین کو کھانا کھلادے۔اور اب میں حمل وضع کرچکی ہوں اور اس کو دو ماہ بھی گزر چکے ہیں مگر میرا شوہر تنگی حالات سے دو چار ہے،اس کا ارادہ ہے کہ وہ تیس مساکین کو کھانا کھلائے گا لیکن وہ ابھی تک نہیں کھلا سکا۔میں مسلمان اور دیندار عورت ہوں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ خائف ہوں کہ کہیں اپنے شوہر کے ساتھ حرام کی زندگی ہی نہ گزارتی رہوں۔آپ سے افادے کی امید کرتی ہوں۔ جواب۔یہ جو لفظ آپ کے شوہر نے بولے ہیں طلاق نہیں بلکہ ظہار ہے اس لیے کہ اس نے کہا ہے "تو مجھ پر میری ماں اور میری بہن کی طرح حرام ہے۔اور ظہار جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا وصف بیان کیا ہے بری بات اور جھوٹ ہے۔لہذا آپ کے شوہر پر واجب ہے کہ جو بھی اس نے کہا ہے اس کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور اسکے لیے حلال نہیں کہ وہ آپ سے فائدہ اٹھائے جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام نہیں کرلیتا۔اللہ تعالیٰ نے ظہار کے کفارے کے متعلق فرمایا ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ(3)فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴿ "جو لوگ ا پنی بیویوں سے ظہار کریں پھر ا پنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو چھونے(یعنی ہم بستری)سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ہا ں جو شخص(غلام آزاد کرنے کی طاقت)نہ پائے اس کے ذمہ دو ماہ کے روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاناہے۔"[1] اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ آپ کے قریب آئے یا آپ سے فائدہ اُٹھائے جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے کام نہیں کرلیتا اور آپ کے لیے بھی حلال نہیں کہ آپ اسے اپنے قریب آنے دیں جب تک وہ [1] ۔[المجادلہ:3۔4]