کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 476
دوران عدت شوہر کے گھر سے رجعی طلاق یافتہ عورت کے نکلنے کی حرمت:۔ سوال۔جس چیز کامشاہدہ کیاگیا ہے وہ یہ ہے کہ شوہرجب اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو وہ فوراً گھر سے نکل جاتی ہے اور اپنے میکے جاکر عدت پوری کرتی ہے۔حالانکہ شرع میں اس کے متعلق جو ہمیں علم ہے وہ یہ ہے کہ عورت اپنی عدت اپنے شوہر کے گھر میں ہی پوری کرے ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بات یا نکاح کے ساتھ رجوع کرلے۔اسی کے ذریعے خاندان کی حفاظت اور طلاق سے بچاؤ ہوسکتا ہے تو آ پ کی اس بارے میں کیارائے ہے؟ جواب۔رجعی طلاق یافتہ وہ ایسی طلاق یافتہ عورت ہے جسے ہم بستری یا خلوت کے بعد ایک طلاق دی گئی ہو یا وہ طلاقیں پر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے گھر میں مقیم رہے ہوسکتاہے وہ اس سے رجوع کرلے اور اس کے لیے مستحب ہے کہ زیب وزینت اختیار کرے تاکہ شوہر کو اس سے رجوع کرنے کی رغبت ہوسکے۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے؛ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللّٰهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا﴾ "اے نبی!(اپنی امت سے کہہ دو)جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہوتو ان کی عدت(کے دنوں کے آغاز)میں انہیں طلاق دو اور عدت کاحساب رکھو،اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو،نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو(یعنی رجعی طلاق کے فوراً بعد انہیں اپنے گھروں سے مت نکالو بلکہ عدت تک گھر میں ہی رہنے دو)اور نہ وہ خود نکلیں(یعنی عورتیں عدت کے دوران خود بھی گھروں سے مت نکل جائیں)ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنےاوپر ظلم کیا،تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کردے۔"[1] تو یہ آیت کریمہ ثابت کرتی ہے کہ رجعی طلاق یافتہ عورت کا(شوہر کے گھر سے)نکلنا جائز نہیں بلکہ اس پر شوہر کے گھر میں مقیم رہنا اوراس سے نہ نکلنا واجب ہے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی بات یعنی رجوع پیدا کردے۔(شیخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) [1] ۔[الطلاق۔1]