کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 472
نکاح کرسکتی ہے جبکہ خلع میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ 3۔ طلاق میں عدت تین حیض ہے جبکہ ضلع کی عدت ایک حیض ہے۔ لہذا اس بناء پر ہم یہ کہیں گے کہ خلع لینےوالی عورت کی عدت اتنی ہی رہے گی جس پر حدیث رسول دلالت کرتی ہے اور وہ ایک حیض ہے۔(شیخ محمد المنجد) جسے شوہر کی وفات کاعلم نہ ہو اس کی عدت:۔ سوال۔بیوی کا خاوند کسی دوسرے ملک میں کام کرتا ہوافوت ہوگیا لیکن بیوی کو اس کا علم وفاتگ کے چھ ماہ بعد ہوا تو کیا بیوی اس حالت میں عدت گزارے گی اور اس کی کیا دلیل ہے؟ جواب۔خاوند کی وفات کی صورت میں بیوی کی عدت اس کی وفات سے شروع ہوگی،اگر تو بیوی حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور اگر حاملہ نہیں تو پھر آزاد عورت کی عدت چار ماہ دس دن اور اگر لونڈی ہے تو اس کی عدت دو ماہ پانچ دن ہوگی۔ اور اگر بیوی کو اپنے خاوند کی وفات کا علم چھ ماہ بعد ہوا ہے تو اس کی عدت ختم ہوچکی ہے کیونکہ اسے علم ہی چھ ماہ بعد ہواہے۔[1](شیخ محمد المنجد) کیا بوڑھی اور بچی پر بھی وفات کی عدت گزارنا واجب ہے؟ سوال۔کیا ایسی بوڑھی عورت جسے مردوں کی کوئی ضرورت نہیں اور ایسی بچی جو ابھی سن بلوغت کو نہیں پہنچی،پر ا پنے شوہر کی وفات کی عدت گزارنا واجب ہے؟ جواب۔جی ہاں،ایسی بوڑھی عورت پر(شوہر کی)وفات کی عدت واجب ہے جسے مردوں کی کوئی حاجت نہیں،اسی طرح ایسی بچی پر بھی واجب ہے جو ابھی سن بلوغت کو نہیں پہنچی۔اگرحاملہ ہوتو عدت وضع حمل ہے۔اور اگر حاملہ نہ ہوتو چار ماہ اوردس دن۔اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان کاعموم اسی پر دلالت کرتاہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ "تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن [1] ۔مزید دیکھئے: الموسوعۃ الفقیھۃ(2/105) احکام الاحداد للمصلح(ص:90)