کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 470
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔ اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ جس عورت کو تین طلاقیں ہوچکی ہوں وہ اپنے خاوند کےلیے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتی جب تک وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے اور پھر وہ شخص اس سے ہم بستری کرے اورطلاق دے اور یہ عورت اس دوسرے شوہر کی عدت سے فارغ ہوجائے(تو پھر وہ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے)۔[1](شیخ محمد المنجد) اس غیرمسلم عورت کی عدت جس نے اسلام قبول کرکے نصرانی شوہر کو چھوڑ دیا:۔ سوال۔ایسی عورت کی عدت کیا ہے جس نے حالت کفر میں نصرانی مرد سے شادی کی،پھر اسلام قبول کرکے اسے چھوڑ دیا،اب وہ کتنی مدت کے بعد کسی دوسرے شخص سےشادی کرسکتی ہے؟ جواب۔راجح قول ہے کہ مطابق اس کی عدت ایک حیض ہوگی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ تین حیض عدت گزارے،لیکن راجح یہی ہے کہ وہ ایک حیض ہی عدت گزارے اس لیےکہ اس کانصرانی سے شادی کرنا صحیح تھا کیونکہ وہ خود بھی مسلمان نہیں تھی۔(شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ) خلع یافتہ عورت کی عدت:۔ سوال۔اگر عورت خود خلع طلب کرے تو کیا اس پر بھی عدت ہوگی؟ جواب۔خلع اصل میں بیوی کے مطالبے پر ہی ہوتا ہے اور بیوی کے مطالبے کے بعد خاوند کے علیحدگی پر راضی ہونے کو ہی خلع کہتے ہیں۔خاوند سے علیحدگی کرنے والی ہر عورت پر عدت واجب ہے خواہ خاوند نے اسے طلاق یا نسخ یا وفات کی وجہ سے چھوڑا ہو،لیکن اگر دخول سے قبل طلاق ہوئی ہوتو پھر عورت پر کوئی عدت نہیں اس لیے کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا﴿ "اے ایمان والو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں چھونے(یعنی مباشرت)سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہارا کوئی حق عدت نہیں جسے تم شمار کرو۔"[2] [1] ۔[شرح مسلم للنووی(10/3)] [2] ۔[الاحزاب۔49]