کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 465
بدتر ہوتے ہیں۔میرا خاوند ہمارے ہاں آیا اور معذرت کرکے قطعی پختہ عہد کیا کہ وہ اپنے اسلوب میں تبدیلی لائے گا اور ہر معاملے میں باریک بینی سے کام لے گا اور تکلیف دینے سے باز رہے گا۔ ہمارے درمیان یہ معاہدہ ہواکہ میں اس کے پاس جاؤں گی تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ وہ حقیقتاً بدلا ہے کہ نہیں۔اس کے پاس آنے کے بعد کچھ ہی عرصہ اس کی حالت بدلی وہ میرے ساتھ غلط قسم کی کلام کرتا،میرے احساسات کو مجروح کرتا اور تھوڑی بہت جسمانی اذیت بھی دیتا۔تو کیا اب میرے لیے اس سے طلاق کا مطالبہ جائزہے؟ جواب۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ ان مصائب میں آ پ کا تعاون فرمائے اور آپ کے لیے صبر کرنے والوں جیسا عظیم اجر لکھے بلا شبہ وہ بہت ہی جو دوسخا اور کرم کامالک ہے۔خاوند کے لیے ضروری ہے کہ اسے علم ہو کہ وہ مسئول ہے اور اسے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اس پر ا پنے گھر والوں کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرنا فرض کیا ہے اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ﴿خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ﴾ "تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو۔"[1] سوال کرنے والی بہن آپ کے متعلق گزارش ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک برے اخلاق کے مالک آدمی کے ساتھ آزمائش میں ڈالاہے جو کچھ سوال میں ذکر کی گیا ہے اس کی بنا پر آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ طلاق کا مطالبہ کریں(جسے خلع کانام دیاجاتا ہے)اس لیے کہ اس طرح کے لوگوں کے ساتھ زندگی نہیں گزاری جاسکتی،ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو اسکے بدلے میں کوئی بہتر اور اچھا شوہر عطا فرمادے اور اگر اس کےعلاوہ کوئی اور شخص نہ مل سکے اور آپ فتنہ میں پڑنےکا خدشہ محسوس نہ کریں یاحرام کاری کام نہ پڑیں تو آپ کا شادی کے بغیر ہی اپنے گھر میں باعزت رہنا اس آدمی کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے۔لیکن اگر آپ کویہ خطرہ ہو کہ آپ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں گی یا حرام کام میں پڑھ جائیں گی تو پھر اس شخص کے ساتھ ہی رہتے ہوئے دنیا کی اذیتوں پر صبر کرنا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بہتر ہے۔(شیخ محمد المنجد) [1] ۔[صحیح :صحیح الجامع الصغیر(3314)]