کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 464
اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ: مرادیہ ہے کہ میں یہ ناپسند کرتی ہوں کہ ایسے اعمال کروں جو اسلامی احکام کے خلاف ہوں یعنی خاوند سے بغض اس کی نافرمانی اور اس کے حقوق ادا نہ کرنا وغیرہ۔[1] خلاصہ کلام یہ ہے:۔ آپ خاوند کے حقوق کی ادائیگی اور اس کے ساتھ موافقت کی کوشش کریں اگریہ نہ ہوسکے تو آپ خلع حاصل کرلیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنے والد کو راضی کرلیں اور اسے بتائیں کہ خاوند کے ساتھ رہنا اس کےدین اور دنیا دونوں کےلیےنقصان دہ ہے۔اگر والد اس پر راضی ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ یہ ضروری نہیں کہ آپ خاوند کو ناپسند کرتے ہوئے بھی اس کے ساتھ رہیں اور اس کے حقوق بھی ادا نہ کریں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ آپ کے سب غم اور پریشانیوں کو دور فرمائے اور آپ کو ایک اچھی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کے معاملات میں آپ کا تعاون فرمائے۔(آمین یا رب العالمین)(شیخ محمد المنجد) اگر شوہر بیوی کو مارے پیٹے تو کیا اس کے لیے طلاق کا مطالبہ درست ہے؟ سوال۔میں نے اپنے خیال میں ایک مسلمان اور صالح شخص سے شادی کی جو اللہ تعالیٰ کے دین کو بلند کرنے کاکام کرتا تھا۔چار سال قبل جب ہماری منگنی کے دن تھے تو میں نے اس سے اپنے تعلقات قائم کرنا چاہے اس لیے کہ وہ میرے بارے میں غلط قسم کے کلمات استعمال کرتا تھا جس سے مجھے تکلیف ہوتی اور میرے خیالات کو بھی ٹھیس پہنچتی۔لیکن اس نے وعدہ کیا کہ شادی کے بعد وہ بہت ہی زیادہ نرم دل ہوجائے گا اور اس وقت اس کی سختی کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ کام نہیں کرتا میں نے اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے شادی کرلی۔ مگر جب ہم نے شادی کرلی تو معاملہ اور بگڑ گیا اور وہ مجھے جسمانی طور پر تکلیف دینا شروع ہوگیا حتیٰ کہ وہ مجھے گھونسے مکے مارنے لگا اور میری گردن بھی دبانے لگا،بالآخر آٹھ ماہ قبل میرے والدین کو بھی اس معاملے کا علم ہوگیا۔اب میں کچھ ہفتوں کے لیے اسے چھوڑ کراپنے والدین کے گھر چلی گئی ہوں میرے والدین کہتے ہیں کہ تم اپنے خاوند کو ایک اور موقع دو اس لیے کہ ممکن ہے تم دوسرے شخص سےشادی کروتو وہ اگر اس سے زیادہ برا نہ ہو تو اسی جیسا ہو۔ان کایہ بھی کہنا ہے کہ جتنی بھی مطلقہ عورتیں ہیں ان کا چکر یہی ہے کہ ان کے دوسرے خاوند پہلے سے بھی [1] ۔[فتح الباری(9/400)]