کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 463
میں نے شادی کے شروع میں بہت کوشش کی کہ خاوند کے ساتھ ہر حال میں گزر بسر کروں لیکن ایسا نہ ہوسکا۔میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اس لیے کہ مجھے اس سے محبت نہیں یا پھر یہ سمجھئے کہ میں اسے وہ عزت نہیں دے سکتی جو ایک خاوند کو دینی چاہیے۔اور اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے والد کے شعور واحساسات کو بھی مجروح نہیں کرنا چاہتی توکیا آ پ کے خیال میں مجھے طلاق لینی چاہیے یا میں اس کے ساتھ بے فائدہ رہنے کی کوشش کروں؟ جواب۔ہم سوال کرنے والی بہن کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ خاوند کے حقوق ادا کرنےاس کی اطاعت کرنے اور اپنے والد کے احساسات کو مجروح نہ کرنے کی کوشش کرے۔لیکن اگر اسکے لیے یہ ممکن نہیں تو وہ ا پنے خاوند سے خلع لے لے۔ آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ خلع اورطلاق میں بہت بڑا فرق ہے طلاق خاوند کی جانب سے ہوتی ہے جس کے کئی ایک اسباب ہیں مثلاً بیوی کو ناپسند کرنا وغیرہ اورمطلقہ عورت پر اس کے حسب حال عدت بھی ہے۔ مثلاً اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے اور اگر بچی یاحیض سے ناامیدہے۔(یعنی اسے حیض نہیں آتا)تو اس کی عدت تین ماہ ہے اوراگراسے حیض آتا ہے تو پھر اس کی عدت تین حیض ہے اور خاوند اس کا مکمل مہر اور اس کے تمام حقوق اداکرے گا۔ لیکن خلع بیوی کی جانب سے ہوتا ہے جس میں وہ خاوند کو مال ادا کرتی ہے تاکہ وہ اسے چھوڑ دے افضل یہ ہے کہ خاوندمہر سے زیادہ مال کامطالبہ نہ کرے خلع والی عورت کی عدت صرف ایک حیض ہوگی تاکہ حمل سے برائت ہوسکے۔ سوال کرنے والی بہن کے مسئلے کے قریب قریب بعض صحابیات رضوان اللہ عنھن اجمعین کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے جسے ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: "ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!(صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں۔البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں(کیونکہ ان کےساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت ادا نہیں کر سکتی)اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:کیا تم ان کا باغ(جو انہوں نے بطور مہر دیا تھا)واپس کرسکتی ہو؟انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے فرمایا کہ باغ قبول کرلو اور انھیں طلاق دے دو۔"[1] [1] ۔[بخاری(5273) کتاب الطلاق باب الخلع وکیف الطلاق فیہ نسائی(6/169) ابن ماجہ(2056) کتاب الطلاق باب المختلفۃ تاخذ ما اعطاھا دارقطنی(4/46) بیہقی(7/313)]