کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 462
لیکن اگر وہ حاملہ نہیں تو اس کی عدت میں اہل علم کا اختلاف ہے اکثر اہل علم کا تو یہ کہناہے کہ وہ تین حیض عدت گزارے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کا عموم اسی پر دلالت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوَءٍ﴾ "اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک عدت گزاریں۔"[1] مگر صحیح قول یہ ہے کہ خلع حاصل کرنے والی عورت ایک حیض عدت گزارے گی،اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کو بھی خلع حاصل کرنے کے بعد ایک حیض عدت گزارنے کا حکم فرمایا تھا۔[2] اوریہ حدیث مذکورہ بالاآیت کی تخصیص کردیتی ہے اس لیے اسی پر عمل کیاجائے گا۔ علاوہ ازیں اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ نئے نکاح کے ساتھ دوبارہ شادی کرکے اکھٹے ہوجائیں۔(شیخ عبدالکریم) خلع کے بعد میاں بیوی کے دوبارہ اکھٹے ہونے کے بارے میں سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی سے دریافت کای گیا تو اس کا جواب تھا: ان دونوں کے لیے نئے مہر،نئے نکاح،عورت کی رضا مندی اور دیگر مکمل شرائط نکاح وارکان نکاح کے ساتھ اکھٹے ہونا جائز اور درست ہے۔کیونکہ خلع کو بینونہ صغریٰ(چھوٹی جدائی)شمار کیا جاتاہے کہ جس کی وجہ سے شوہر ہمیشہ کے لیے عورت سے جدا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ کے لیے جدائی تیسری طلاق کے بعد ہوتی ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) خلع اور طلاق میں فرق اور اگر شوہر سے خلع لینے میں والد ناراض ہو۔۔۔؟ سوال۔میں نے چار سال سے شادی کی ہوئی ہے لیکن اپنے خاوند سے تعلقات درست نہیں کرسکی،میں نے اپنے خاوند اور والد دونوں کو بتایا ہے کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔در اصل میری شادی پاکستان میں ان حالات میں ہوئی تھی جو مجھ پر بہت گزر رہے تھے۔میری والدہ پر زنا کا الزام لگا جس وجہ سے انہیں سسر کے گھر میں ہی محبوس کردیا گیا۔میں اور میری والدہ اس وقت پاکستان میں تھی اور مجھے والدہ سے ملنے اور بات کرنے کی بھی اجازت نہ تھی اس وقت میرے والد کہنے لگے شادی کرلو۔ [1] ۔[البقرہ۔228] [2] ۔[صحیح:صحیح ترمذی(946) ابو داود(2229)کتاب الطلاق باب فی الخلع ترمذی(1186) کتاب الطلاق اللعان باب ماجاء فی الخلع]