کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 459
خلع کی تعریف اور طریقہ سوال۔خلع کیا ہے اور اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟جب خاوند ا پنی بیوی کو طلاق نہ دینا چاہے تو کیا طلاق کا وقوع ممکن ہے؟اور امریکی معاشرے کے بارے میں کیا خیال ہے جہاں عورت اگر اپنے شوہر کو ناپسند کرتی ہو(خواہ اس کے دین پر عمل کی وجہ سے ہی)تو اسے طلاق کی آزادی حاصل ہے؟ جواب۔بیوی معاوضہ دے کر علیحدہ ہوجائے تو اسے خلع کہا جاتاہے۔اس طرح خاوند بیوی سے معاوضہ لے کر اسے چھوڑ دیتاہے خواہ وہ معاوضہ شوہرکا دیا ہوا مہر ہو یا کچھ اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً إِلاّ أَنْ يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّٰهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّٰهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾ "اور تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم نے جو کچھ انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لے لو مگر یہ کہ وہ دونوں اس سے خوف زدہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو پھر ان پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اس کا فدیہ دیں۔"[1] حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ: ﴿عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اللّٰهُ عنهما أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلا دِينٍ،وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:(أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟قَالَتْ:نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً﴾ "ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اے اللہ کےرسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!مجھے ان کے اخلاق او دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں۔البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں(کیونکہ ان کے سا تھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت ادا نہیں کرسکتی)اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا،کیا تم ان کا باغ(جو انھوں نے بطور مہر دیا تھا)وا پس کرسکتی ہو؟انہوں نے کہا جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے فرمایاکہ باغ قبول کرلو اور انہیں طلاق دے دو۔"[2] علمائے کرام نے اس قصے سے یہ استنباط کیا ہے کہ جب عورت اپنے خاوند کے ساتھ رہنے کی طاقت نہ رکھے [1] ۔[البقرہ:229] [2] ۔[بخاری(5273) کتاب الطلاق باب الخلع وکیف الطلاق فیہ نسائی(6/169) ابن ماجہ(2056) کتاب الطلاق باب المختلعۃ تاخذ ما اعطا ھادارقطنی(4/46) بیہقی(7/313)]