کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 452
سابقہ مطلقہ بیوی سے خط و کتابت اور اس کی تصاویر اپنے پاس رکھنا:۔ سوال۔کیا مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ دوسری شادی کرنے کے بعد اپنی سابقہ بیوی کو محبت نامے لکھے یا محبت کے انداز میں مخاطب کرے؟اور کیا اس کے لائق ہے کہ وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ جس کمرے میں رہائش پذیرہو اس میں سابقہ بیوی کے کارڈاور تصویریں رکھے؟ جواب۔پہلی بات تویہ ہے کہ خاوند سے طلاق حاصل کرنے کے بعد عورت اجنبی ہو جاتی ہے اس لیے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس سے خط و کتابت کرے یا پھر اس سے مخاطب ہو یا اس کے ساتھ تنہائی اختیار کرے یا پھر اس کے ساتھ مصافحہ کرے وغیرہ عورت یا مرد کی جانب سے یہ فعل فحاشی کی جانب لے جانے والا ہے اور پھر اصلاًیہ فعل تو ان پر حرام بھی ہے۔ شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں۔ کسی بھی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اجنبی عورت سے خط وکتابت کرے اس لیے کہ اس میں فتنہ ہے اور ہو سکتا ہے کہ خط وکتابت کرنے والا یہ سوچے کہ اس میں کوئی فتنہ نہیں لیکن شیطان اس سے ہر وقت چمٹا رہے گا۔اور دونوں کو ایک دوسرے کی رغبت دلائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ جو بھی دجال کے متعلق سنے وہ اس سے دور رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتا یا ہے کہ ایک شخص اس کے پاس ایمان کی حالت میں آئے گا۔لیکن دجال اس کے پاس رہے گا حتی کہ اسے فتنے میں ڈال دے گا۔لہٰذا نوجوانوں کو جوان لڑکیوں سے خط و کتابت کرنے میں بہت بڑا خطرہ ہے اس سے دور رہنا واجب ہے۔[1] شیخ عبد اللہ بن جبرین سے اجنبی عورت سے خط وکتابت کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا جواب تھا۔ ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ دونوں کے درمیان شہوت پیدا کرتا ہے اور ملاقات وغیرہ کی خواہش پیدا کرتا ہے ان محبت ناموں اور خطوط سے بہت فتنہ پیدا ہوتا ہے اور دل میں زنا کی محبت پیدا ہوتی ہے جس سے فحاشی کا وقوع ہوتا ہے اس لیے ہم ہر اس شخص کو نصیحت کرتے ہیں جو اپنے نفس کی مصلحت چاہتا ہے کہ وہ ایسی خط وکتابت سےرک جائے تاکہ اس کا دین اور عزت دونوں محفوظ رہیں۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق بخشنے والا ہے۔[2] دوسری بات یہ ہے کہ نہ تو خاوند اور نہ ہی بیوی کے لیے جائز ہے کہ طلاق کی عدت گزرنے کے بعد ایک [1] ۔ فتاوی المراء المسلمۃ 578/2] [2] ۔[فتاوی المراء المسلمۃ 578/2]