کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 451
شوہر کا اپنی مطلقہ بیوی سے کیا تعلق ہے۔؟ سوال۔کیا میں اپنی اولاد کو لے کر سابقہ خاوند کے ساتھ گھومنے نکل سکتی ہوں تاکہ بچے اپنے والدین کے ساتھ اکٹھے ہوسکیں۔میرا سابقہ خاوند بے نماز بھی ہے تو کیا اس کا اپنی اولاد پر خرچ کرنا حرام ہے؟ جواب۔جب خاوند اپنی کسی بیوی کو تین یا دو یا ایک ہی طلاق دے دے اور عورت کی عدت ختم ہو جائے تو وہ اپنے خاوند کے لیے اجنبی ہو جائے گی۔جس کی وجہ سے وہ اس کے ساتھ خلوت نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اسے دیکھ اور چھو سکے گا۔مطلقہ عورت کا اپنے سابقہ خاوند سے اتنا ہی تعلق ہو گا جتنا کہ ایک اجنبی شخص سے ہوتا ہے۔اولاد کی وجہ سے ان کا ایک دوسرے کو دیکھنا یا خلوت کرنا یا اکٹھے سفر کرنا جائز نہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ اولاد کا والد اپنی سابقہ بیوی کے بغیر صرف بچوں کو گمانے کے لیے لے جائے یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ عورت اپنے کسی محرم کے ساتھ وہاں جائے لیکن وہ کسی شرعی ممانعت کے کام میں نہ پڑے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے۔ تین طلاق والی عورت اپنے سابقہ خاوند کے لیے باقی اجنبی عورتوں کی طرح ہی ہے اس لیے مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے ساتھ خلوت کرے کیونکہ وہ کسی بھی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت نہیں کر سکتا اسی طرح اس کے لیے اسے دیکھنا بھی جائز نہیں کیونکہ وہ بھی اس کے لیے ایک اجنبی کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے اس عورت پر بالکل ہی کوئی اختیار حاصل نہیں۔[1] اولاد کا خرچہ قبول کرنے کے بارے میں گزارش ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو۔اس کی جانب سے اپنی اولاد پر خرچہ قبول کرنے میں کو ئی حرج نہیں خواہ وہ بے نمازہی کیوں نہ ہو لیکن ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو یہ کہتی رہے کہ وہ اپنے والد کو نماز پڑھنے کی نصیحت کریں ہو سکتا ہے اس نصیحت کی وجہ سے وہ نماز کی پابندی کرنے لگے اور اگر والدہ کواپنی اولاد کے متعلق ان کے کافر باپ کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس ہو کہ وہ اولاد کے اخلاق پر اثرانداز ہو گا یا پھر انہیں حرام کام کی ترغیب دے گا تو ایسی حالت میں اس کے لیےجائز نہیں کہ وہ اپنی اولاد کو اس کے ساتھ جانے کی اجازت دے کیونکہ اولاد کا کا فروالد کے ساتھ جانا ان کے لیے نقصان دہ ہے۔(اللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) [1] ۔دیکھیں : الفتاوی الکبری 349/3]