کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 45
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اور باقی دونوں صحابیوں پر رد کرتے ہوئے فرمایا:میں روزہ رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں،میں رات کو عبادت کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں نے شادی بھی کی ہے اور جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی وہ مجھ سے نہیں۔[1] اس قصے میں اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ میں سے عورتوں اور مردوں کے فعل رہبانیت اور عورتوں سے علیحدگی سے بچنے کا حکم دیا ہے لہٰذا ایسی عورت کے لائق ومناسب نہیں کہ وہ خاوند کے بغیر ہی ساری زندگی بسر کر دے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) کیا جنسی لحاظ سے کمزور شخص کا شادی کرانا جائز ہے؟ سوال:میں ابھی تک کنوارا ہوں اور بیوی کی تلاش میں ہوں،لیکن مجھے ایک مشکل ہے کہ مجھے تھوڑی بہت جنسی کمزوری لاحق ہے جو غیر یقینی اور غیر منتظم قسم کی ہے،ہر وقت یہ سوچ گھیرے رکھتی ہے کہ میں نے اگر شادی کر لی تو بیوی میری حالت قبول نہیں کرے گی اور معاملہ طلاق پر جا پہنچے گا،تو میرے لیے کیا کرنا بہتر ہے آیا میں شادی کروں یا نہ کروں؟ جواب:انسانی جنس میں شہوت کے معاملہ میں بہت ہی فرق پایا جاتا ہے کسی میں تو بہت زیادہ ہوتی ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن میں یہ بہت ہی کم ہوتی ہے اور کچھ میں میانہ روی ہوتی ہے اور کچھ ایسے مرد بھی ہوتے ہیں جن میں بالکل ہی شہوت نہیں ہوتی،اگر تو آپ کی نکاح میں شہوت ہے چاہے وہ کم ہی ہے تو پھر آپ شادی کر سکتے ہیں،اس میں اتنا ہی کافی ہے کہ آپ بیوی سے ہمبستری کرنے کی طاقت رکھتے ہوں چاہے مہینہ میں ایک بار ہی سہی یا پھر دو ماہ میں ایک بار۔ لیکن اگر کوئی بالکل ہی ہم بستری کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر لڑکی کے ولی سے قبل بتا دینا اس پر ضروری ہے۔(واللہ اعلم) ………(شیخ ابن جبرین)……… [1] (بخاري (5023) كتاب النكاح: باب الترغيب في النكاح، مسلم (1401) كتاب النكاح: باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه، نسائي (3217) أحمد (3/241) عبد بن حميدص 392)