کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 449
اور کیا یہ دونوں علیحدہ علیحدہ طلاقیں شمار ہوں گی؟ یہ علم میں ہو نا چاہیے کہ بیوی کو اس کا کچھ علم نہیں کہ یہ طلاق شمار ہوگی اور تیسری مرتبہ تو طلاق واضح تھی اس وقت خاوند دل کا مریض ہے اور علاج کروارہا ہے بیوی یہ محسوس کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اس کی سوچ اور غم کی بنا پر ہے وہ اب بھی اس کی بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے اور اس کا اہتمام بھی کرتی ہے لیکن امام صاحب کے قول کے مطابق تین طلاقیں مکمل ہو چکی ہیں تو کیا واقعی تین طلاقیں پوری ہوچکی ہیں؟ جواب۔صرف نیت سے ہی طلاق نہیں ہوتی بلکہ طلاق دوچیزوں میں سے ایک کے ساتھ ہوتی ہے یا تو زبان سے کلام کرنے سے یا پھر لکھنے سے۔[1] اس بنا پر پہلی اور دوسری مرتبہ طلاق کا وقوع نہیں ہوا اس لیے کہ خاوند نے نہ تو طلاق کی بات کی اور نہ ہی اس کے متعلق لکھا اور تیسری مرتبہ کے متعلق گزارش ہے کہ آپ نے جو ذکر کیا ہے کہ اس نے لکھا تھا "اگرشروط پوری نہ کی گئیں تو وہ طلاق دے دے گا"یہ بھی طلاق شمار نہیں ہوگی بلکہ یہ تو طلاق کا ڈراواہے۔اس لیے اگر ان شرائط کو پورا کردیا گیا ہو یا پورا نہ کیا گیاہو۔دونوں صورتوں میں طلاق نہیں ہوئی اس لیے کہ صرف ڈراوے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔[2](شیخ ابن باز) بیوی سے ہم بستری نہ کرنے کی قسم کھانا:۔ سوال۔کیا انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیوی سے ہم بستری نہ کرنے کی قسم اٹھالے؟ جواب۔مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی سے ہم بستری نہ کرنے کی قسم اٹھائے اور اگر وہ ایسا کرے تو اس قسم کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر کرے۔پھر(اس مدت کے بعد)اگر وہ اپنے ایلاء(بیوی سے دوررہنے کی قسم)سے رجوع کر لے اور اس سے ہم بستری کرلے تو ٹھیک ورنہ شرعی حاکم ان دونوں کے درمیان تفریق کرادے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ: ﴿لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ* وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾ [1] ۔دیکھیں : فتاوی الطلاق لا بن باز ص/ 54۔53] [2] ۔[فتاوی الطلاق لابن باز ص/56]