کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 448
تاہم امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک میں یہ طلاق واقع نہیں ہو گی اور نہ ہی لونڈی آزادہوگی لیکن جب وہ شادی کر لے یا پھر لونڈی رکھے تو پہلی بیوی کو اختیار ہے چاہے وہ اس کے ساتھ رہے یا اپنے خاوند سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "وہ شرطیں سب سے زیادہ پورا کرنے کی حق دار ہیں جن کے ذریعے تم شرمگاہ حلال کرتے ہو۔"[1] اسی طرح ایک مرد نے ایک عورت سے اس شرط پر شادی کی کہ وہ اس کی موجودگی میں دوسری شادی نہیں کرے گا پھر یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک لے جایا گیا تو انھوں نے فرمایا شروط سے حقوق ختم ہو جاتے ہیں۔ یوں اس مسئلے میں تین اقوال ہوئے 1۔اس سے طلاق ہوجائے گی۔ 2۔اس سے نہ تو طلاق ہوگی اور نہ ہی بیوی کو علیحدگی کا حق حاصل ہوگا۔ 3۔اس سے نہ توطلاق ہوگی اور نہ ہی لونڈی آزادی ہو گی لیکن بیوی نے جو شرط رکھی تھی اس کی وجہ سے اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ چاہے تو خاوند کے ساتھ رہ سکتی ہے اور چاہے تو علیحدگی اختیار کر سکتی ہےیہی قول سب سے بہتر اور عمدہ ہے۔[2](شیخ محمد المنجد) کیا شوہر کا بیوی کو چھوڑ کر گھر سے چلے جانا طلاق شمار ہوگا؟ سوال۔مرد نے تین مرتبہ اپنی بیوی کو چھوڑااور باہر گھرسے نکل جاتا ہے لیکن منہ سے کچھ نہیں کہتا اور نہ ہی طلاق کا اشارہ کرتا ہےدوسری بار گھر سے باہر جانے کے بعد بیوی کو خط موصول ہوا جس میں خاوند کے گھر واپس آنے کی شروط تھیں اس میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر اس نے ان شرائط پر عمل نہ کیا تو وہ اسے طلاق دے دے گا۔ توکیا پہلی دوبار بیوی کو چھوڑنا طلاق شمار ہو گا؟ [1] ۔[بخاری 2721کتاب الشروط باب الشروط فی المہرعندعقدہ النکاح مسلم 1418۔کتاب النکاح باب الوفاء بالشروط فی النکاح احمد144/4۔ابو داؤد 2139۔کتاب النکاح باب فی الرجل یشترط لہا دارھانسائی 92/6۔ترمذی 1127۔کتاب النکاح باب ماجاءفی الشرط عند عقدۃالنکاح ابن ماجہ 1954۔کتاب النکاح باب الشرط فی النکاح عبد الرزاق 10613۔دارمی143/2۔ابو یعلی 1754۔بیہقی 248/7] [2] ۔مزید دیکھئے :الفتاوی الکبری 125/3]