کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 445
سکتا ہے یہ بات اس کے دین میں داخل ہونے کا ذریعہ بن جائے۔ آپ کے ذہن میں یہ بات بھی رہنی چاہیے کہ آپ کے لیے اسے اس کی رضا مندی اور دلی اطمینان کے بغیراسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کا زبردستی اسلام میں داخل ہونا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا جیسا کہ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے۔"[1]۔ تیسری بات یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ آپ اپنی اولاد کو ان کی ماں اور اس کے خاندان کے اثر انداز ہونے سے بچاسکیں اور ان کی صحیح اسلامی تربیت کر سکیں توپھر اس سے اولاد پیدا کرنے میں کوئی حرج نہیں خواہ وہ اپنے دین پر ہی قائم رہے اور ہوسکتا ہے کہ ایسا کرنا اس کے لیے دین اسلام سیکھنے میں مددگار ثابت ہو جیسا کہ اس نے اس کا وعدہ بھی کیاہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ آپ ضروری ہے کہ آپ کسی اسلامی ملک کی طرف ہجرت کریں جہاں آپ اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کر سکیں خواہ آپ اس بیوی کے ساتھ رہیں یا کسی اور سے شادی کر لیں اس لیے کہ کفارکےملک میں بلا ضرورت اور بلا مصلحت رہائش اختیار کرنا جائز نہیں الاکہ دعوت و تبلیغ یا کسی ایسے علم کا حصول مقصد ہو جس کی مسلمانوں کو ضرورت بھی ہواور ان کے اپنے ملک میں یہ علم موجود نہ ہو۔لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ اپنے دین کو واضح طور پر بیان کر سکتا ہوتو پھر رہ سکتا ہے بصورت دیگر نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ﴿أنا بريء من كل مسلم يقيم بين أظهر المشركين,﴾ "میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے در میان میں رہتا ہے۔"[2] پانچویں بات یہ ہے کہ طلاق ہوجانے کی صورت میں آپ کی بیوی مہر کی حق دار ہے اگر مہر ابھی تک ادا نہ کیا گیا ہو لیکن دوران عدت رہائش اور نان و نفقہ طلاق کے اعتبار سے مختلف ہوگا۔لہٰذا جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک رجعی طلاق دی تو بیوی کو دوران عدت رہائش اور نان ونفقہ بھی حاصل ہو گا اسی طرح وہ زوجیت باقی رہنے کی وجہ سے اس مدت میں خاوند کی وارث اور خاوند اس کا وارث ہو گا طلاق رجعی والی عورت کو رہائش حاصل ہونے کی دلیل مندرجہ ذیل فرمان باری تعالیٰ ہے۔ "اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!(اپنی امت سے کہہ دو)جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت(کے دنوں کے آغاز)میں انہیں طلاق دواور عدت کا حساب رکھو اور اللہ سےجو تمھاراپروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انہیں ان کے [1] ۔[تفسیر ابن کثیر311/1] [2] ۔[صحیح ،صحیح ابو داؤد،ابوداؤد264/5۔کتاب الجہاد باب النھی عن قتل من اعتصم بالسجود]