کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 44
سے بلاضرورت بات چیت اور ملاقات وغیرہ(جو حرام ہے)تو پھر ان شاء اللہ اس محبت میں کوئی حرج نہیں جو صرف دل تک محدود ہے اور اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی رہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نصیب میں کر دے،بشرطیکہ وہ شخص مسلمان ہو،اس کے عمل صحیح ہوں،وہ اسلامی احکامات کا التزام کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو۔(واللہ اعلم)(شیخ محمد المنجد) اپنے آپ کو عبادت کے لیے وقف کر دینا اور نکاح نہ کرنا سوال:کیا ایسی عورت پر شادی کرنا واجب ہے جو ساری زندگی اپنے آپ کو فحاشی اور غلط کاموں سے بچانے کی استطاعت رکھتی ہو،اسے یہ رغبت ہو کہ وہ ازدواجی زندگی کے مشاغل سے ہٹ کر عبادت میں مشغول رہے؟ جواب:اللہ عزوجل نے نکاح کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِن فَضْلِهِ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ) ’’تم میں سے جو مرد عورت بےنکاح ہوں ان کا نکاح کردو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی،اگر وہ فقیر و مفلس ہوں گے تو اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا۔اللہ تعالی گشادگی والا اور علم والا ہے‘‘ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نکاح کرنے کا حکم دیا ہے: ﴿يا معشر الشباب من استطاع منكم البائة فليتزوج ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء) ’’اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے اور جس میں اس کی طاقت نہیں وہ روزے رکھے کیونکہ وہ اس کے لیے ڈھال ہیں۔‘‘ [1] اور ان تين صحابہ كرام کے قصے میں بھی ہے کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے متعلق پوچھنے کے لیے گھر گئے تو انہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس عبادت کو اپنے لیے کم سمجھا۔اس قصے میں ہے کہ ایک صحابی کہنے لگا،میں عورتوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کبھی شادی نہیں کروں گا۔ [1] (بخاري (5065)، كتاب النكاح ، باب قول النبي : من استطاع الباءة فيلتزوج، مسلم (1400)، ابو داؤد (3046)، نسائي (4/171)، ابن ماجة (1845)