کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 439
جواب۔اگر آپ کی بیوی کے احوال درست ہیں آپ اس سے محبت کرتے ہیں وہ آپ کی والدہ کی نافرمانی بھی نہیں کرتی آپ کی والدہ محض ذاتی ناپسندیدیگی کی بنا پر آپ کو اسے طلاق دینے پر مجبور کرتی ہے تو آپ پر اس معاملے میں اپنی والدہ کی اطاعت ضروری نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ"اطاعت صرف معروف میں ہے۔"آپ پر لازم ہے کہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اس کے ساتھ صلہ رحمی کریں اور حسب استطاعت اسے راضی کرنے کی کوشش کریں مگر اپنی بیوی کو طلاق نہ دیں۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) اپنے ساتھ فحش فلمیں نہ دیکھنے کی صورت میں بیوی کو طلاق کی دھمکی:۔ سوال۔ایک عورت کا خاوند اسے بلو پرنٹ فحش فلمیں دیکھنے پر مجبور کرتا ہے لیکن بیوی اس کا انکار کرتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ وہ بھی نہ دیکھا کرے اور اس نے اسے یہ اختیار دیا ہے یا تو فلمیں چھوڑ کر اسے رکھے یا پھر اسے چھوڑ دے اب اسے کیا کرنا چاہیے؟خاوند اسے دھمکی دیتا ہے اگر وہ فلمیں نہیں دیکھے گی تو طلاق دے دے گا۔آپ اسے کیا نصیحت کرتے اور مشورہ دیتے ہیں؟کیا وہ فلمیں دیکھ لے یا پھر طلاق حاصل کر لے اور خاص کر جب اس کے تین بچے بھی ہیں؟ جواب۔اللہ تعالیٰ نے مسلمان پر واجب کیا ہے کہ وہ اپنے آپ اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچائے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ جو حکم دیا جا تا ہے اسے بجالاتے ہیں۔[1] اور اللہ تعالیٰ نے بیوی اور اولاد کو خاوند کی رعایا بنایا ہے اور روز قیامت اسے اپنی رعایا کے بارے میں جواب دینا ہو گا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: ﴿كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤول عَنْ رَعِيَّتِهِ،الإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْؤولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا،وَالْخَادِمُ رَاعٍ فِي مَالِ سَيِّدِهِ ومَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ،-قَالَ:وَحَسِبْتُ أَنْ قَدْ قَالَ:وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ- وَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْؤولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ﴾ "تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔امام نگران ہے اور اس [1] ۔[التحریم :6]