کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 437
یہ بے وقوف لوگ جو اپنی زبانوں پر ہر چھوٹے اور بڑے معاملے میں طلاق طلاق کرتے پھرتے ہیں یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کے سراسر خلاف ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ﴿مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ﴾ "جو شخص بھی قسم اٹھانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے وگرنہ خاموش ہی رہے۔"[1] لہٰذا ہر مومن کو چاہیے کہ وہ جب بھی قسم اٹھائے صرف اللہ تعالیٰ کی ہی قسم اٹھائے اور اس کے یہ بھی لائق نہیں کہ وہ بکثرت قسمیں ہی اٹھاتا چلا جائے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ"اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔"[2] اس آیت کی جو تفسیر کی گئی ہے وہ بالجملہ یہی ہے کہ کثرت سے اللہ تعالیٰ کی قسم نہ اٹھایا کرو۔ رہا مسئلہ یہ کہ طلاق کی قسم اٹھائی جاسکتی ہے یا نہیں مثلاً یوں کہا جائے کہ اگر تم یہ کرو تو طلاق اگر یہ نہ کرو تو طلاق یا پھر یہ کہے کہ اگر میں ایسا کروں تو میری بیوی کو طلاق اگر ایسانہ کروں تو میری بیوی کو طلاق اور اس طرح کے دوسرے کلمات وغیرہ تو یہ سب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت و رہنمائی کے خلاف ہے۔[3] دوسری بات یہ ہے کہ: اس سے طلاق واقع ہوتی ہے کہ نہیں تو اس میں خاوند کی نیت کا دخل ہے اگر اس نے طلاق کی نیت کی اور بیوی کو قسم دی کہ وہ ایسا کام نہ کرے تو بیوی کے وہ کام کرنے سے طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر وہ طلاق کی نیت نہیں کرتا بلکہ اس سے صرف اسے روکنے کی نیت تھی تو اس کا حکم صرف حکم کا ہو گا۔ شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ: راجح بات یہ ہے کہ جب طلاق کو قسم کی جگہ پر استعمال کیا جائےیعنی اس کا مقصد یہ ہوکہ کسی کام کے کرنے پر ابھارنایا کسی کام سے منع کرنا یا کسی کام کی تصدیق یا تکذیب کرنا یا کسی بات کی تاکید کرنا وغیرہ تو اس کا حکم بھی قسم جیسا ہی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ(1)قَدْ [1] ۔[بخاری 2679۔کتاب الشہادات باب کیف یستحلف] [2] ۔[المائدۃ : 89] [3] ۔ مزید دیکھئے : فتاوی المراء المسلمۃ853/2]