کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 436
﴿لا طلاق إلا من بعد النكاح﴾ "طلاق صرف نکاح کے بعد ہوتی ہے۔"[1](سعود فتویٰ کمیٹی) بات بات پر طلاق اور طلاق کی قسم کھانا:۔ سوال۔میرے خاوند نے طلاق کی قسم اٹھالی کہ میں میکے نہ جاؤں اور اب وہ اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو کیا اس پر قسم کا کفارہ ہے؟ جواب۔مسلمان کو یہ چاہیے کہ وہ اپنے گھر یلو جھگڑوں میں طلاق کا لفظ استعمال نہ کرے اس لیے کہ طلاق کا انجام صحیح نہیں ہو تا۔بہت سے لوگ طلاق کے معاملے میں سستی کرتے ہیں جب بھی ان کا کوئی گھر یلو جھگڑا ہوتا ہے فوراًطلاق کی قسم اٹھا لیتے ہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک قسم کا کھیل ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اکٹھی تین طلاقیں دینے والے کو کتاب اللہ کے ساتھ کھیلنے والا قراردیا ہے تو ایسے شخص کو کیا کہا جا ئے گا جو طلاق کو اپنی عادت ہی بنالے؟ حضرت محمود بن لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ: ﴿عن مَحْمُود بْن لَبِيدٍ قَالَ أُخْبِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا؟فَقَامَ غَضْبَان ثُمَّ قَالَ:أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللّٰهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟!حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ:يَا رَسُولَ اللّٰهِ،أَلا أَقْتُلُهُ؟﴾ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے ڈالی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہوکر کھڑےہو گئے۔اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب سے کھیلا جارہا ہے جبکہ میں ابھی تمھارے درمیان موجود ہوں حتیٰ کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!کیا میں اسے قتل کرڈالوں۔"[2] شیخ ابن عثیمین رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہےکہ۔ [1] ۔[حسن صحیح ابن ماجہ 1667کتاب الطلاق باب لاطلاق قبل النکاح ابن ماجہ 2048صحیح الجامع الصغیر 7523ارواء الغلیل 2070۔طحاوی فی مشکل الاثار 131/2۔طبرانی صغیر 96/1بیہقی 320/7بغوی فی شرح السنۃ 198/9] [2] ۔[الطلاق باب الثلات المجموعۃ وما فیہ من التغلیظ ]