کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 433
"اگر تمھیں علم نہ ہو تو اہل علم سے پوچھ لیا کرو۔"[1](شیخ ابن عثیمین) عورت طلاق چاہتی ہے مگر شوہر نہیں دیتا:۔ سوال۔میری ایک بہن شادی شدہ ہے لیکن ابھی تک اس کے خاوند نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا۔حالات درست تھے لیکن اچانک میری بہن نے یہ کہناشروع کردیا کہ وہ اپنے خاوند کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی اس لیے کہ اب وہ اس سے محبت نہیں کرتی وہ دونوں ابھی تک اکٹھےایک گھر میں میاں بیوی کی طرح نہیں رہے۔جب اس کے خاوند نے یہ بات سنی کہ(اس کی بیوی اس سے طلاق چاہتی ہے)تو وہ انتقاماًاسے طلاق دینے سے انکار کر رہا ہے میری بہن مصر ہے کہ وہ اس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی اور خاوند مصرہے کہ وہ طلاق نہیں دے گا۔ ہم نے بہن کو کہا ہے کہ تم اس سے کسی شرعی عذر کے بغیر طلاق نہیں لے سکتی لیکن اس کا کہنا ہے کہ اس کا خاوند بہت جلد غصہ میں آنے والا اور راز افشاں کرنے والا ہے آپ کو یہ علم ہو نا چاہیے کہ ابھی تک وہ ایک گھر میں اکٹھے نہیں رہے اور اس کا خاوند بھی یہ اعترا ف کرتا ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلے گا تو اب آپ بتائیں کہ اس مشکل کا شرعی حل کیا ہے؟ جواب۔اگر خاوند بیوی کے شرعی حقوق کی ادائیگی کرتا ہے تو بیوی کا خاوند سے طلاق کا مطالبہ حرام ہے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ "جو کوئی عورت بغیر کسی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے(یعنی وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گی)۔"[2] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "بغیر کسی سبب کے" کا معنی یہ ہے کہ کسی ایسی سختی اور تکلیف کے بغیر جو طلاق تک لے جائے۔مگر جب بیوی مجبور ہو جائے اور خاوند اس کے حقوق کی ادائیگی میں کو تا ہی کرے یا اس کا اخلاق صحیح نہ ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور سبب ہو تو بیوی طلاق طلب کرسکتی ہے اسے چاہیے کہ اپنا معاملہ قاضی کے پاس [1] ۔[النحل :43] [2] ۔[صحیح :ارواء الغلیل 2035۔صحیح الجامع الصغیر 2706۔ابو داؤد 2226۔کتاب الطلاق باب فی الخلع ترمذی 1187۔کتاب الطلاق واللعان ۔باب ماجاء فی المختلعات ابن ماجہ 2055کتاب الطلاق باب کراھیہ الخلع للمراۃ احمد 277/5۔دارمی 162/2ابن المحارود748۔ابن حبان 4184۔بیہقی 316/7]