کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 430
شدید غصے میں طلاق کا حکم:۔ سوال۔میرا اپنی بیوی ے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور اختلاف اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ میں نے اپنی بیوی کو ڈرانے کے لیے یہ کہہ دیا کہ اگر تو خاموش نہ ہوئی تو میں تمھیں طلاق دے دوں گا۔لیکن یہ کہنے کے باوجود بھی وہ خاموش نہ ہوئی تو شدید غصے کی حالت میں مجھے اپنے آپ پر قابو نہ رہا میں ہوش کھو بیٹھا اور نا چاہتے ہوئے بھی میں نے اسے طلاق دے دی اور پھر اس کے بعد مجھے ندامت ہوئی میں یہ وضاحت چاہتا ہوں کہ آیا میری بیوی کو طلاق ہو گی ہے یا نہیں؟اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیرعطا فرمائے۔ جواب۔اولاً میں اپنے اس سائل اور دیگر مسلمان بھائیوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ غصہ نہ کریں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی وصیت فرمائی ہے۔ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے کوئی وصیت کیجئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لاَ تَغْضَبْ."غصہ نہ کر۔" اس نے کئی بار اپنی بات دہرائی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف یہی فرمایا کہ غصہ نہ کر۔[1] اور غصہ ایسا انگارہ ہے کہ جسے شیطان آدم کے بیٹے کے دل میں ڈال دیتا ہے حتیٰ کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں رگیں پھول جاتی ہیں اور اس سے ایسے اقوال و افعال صادر ہونے لگتے ہیں جن کا وہ ارادہ نہیں رکھتا۔لہٰذا آدمی کو چاہیے۔کہ وہ اطمینان و سکون لازم پکڑے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ ثابت ہے کہ جس وقت آپ نے طلاق دی تھی تو آپ کو(شدید غصے کی وجہ سے)علم ہی نہیں تھا کہ آپ کیا کہہ رہےہیں تو یقیناً پھر طلاق واقع نہیں ہو گی۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ ﴿لا طلاق في إغلاق﴾ "اغلاق(یعنی عقل پر پردی ڈال دینے والے شدید غصے)میں طلاق نہیں ہوتی۔[2](شیخ ابن عثیمین) [1] ۔[بخاری 6116۔کتاب الادب باب الحلد من الغضب ] [2] ۔[حسن صحیح ابو داؤد 1919۔کتاب الطلاق باب فی الطلاق علی غلط ارواء 2047۔ابو داؤد 2193۔احمد 276/6۔بخاری فی التاریخ الکبیر171/1۔ابن ماجہ 2046۔ کتاب الطلاق باب طلاق المرہ والناسی مستدرک حاکم 198/2۔ کتاب الطلاق باب لاطلاق والا عتاق اغلاق بیہقی 357/7۔ کتاب الطلاق باب ماجاء فی طلاق المکرہ ابن ابی شیۃ 49/5دارقطنی 36/4۔ابو یعلی 421/7۔۔4444]امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔