کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 429
رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثلاث:عن الصَّبِى حَتَّى يَبْلُغَ،وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ،وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ) "تین آدمی مرفوع القلم ہیں(یعنی ان کا گناہ نہیں لکھا جاتا)ایک سونے والا حتیٰ کہ وہ بیدار ہوجائے دوسرا بچہ حتیٰ کہ وہ بالغ ہوجائے اور تیسرا پاگل حتیٰ کہ وہ عقل مند ہوجائے۔"[1](سعودی فتویٰ کمیٹی) مجبور کی طلاق کا حکم:۔ سوال۔کیا زبردستی دلوائی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے؟ جواب۔جبری طلاق واقع نہیں ہو تی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿إِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ﴾ "بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطا اور بھول کو معاف کردیا ہے نیز وہ گناہ بھی معاف کردئیے ہیں جن پر انہیں مجبور کیا گیا ہو۔"[2] شرح کبیر میں ہے کہ: امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے اس روایت میں کوئی اختلاف نہیں کہ جبری طلاق واقع نہیں ہوتی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت جابر سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی روایت کیا گیا ہے۔اور عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ حسن جابر بن زید رحمۃ اللہ علیہ شریح رحمۃ اللہ علیہ،عطا ء رحمۃ اللہ علیہ،طاؤس رحمۃ اللہ علیہ عمر بن عبدلعزیز رحمۃ اللہ علیہ،امام مالک رحمۃ اللہ علیہ امام اوزعی رحمۃ اللہ علیہ،امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ امام ابو ثور رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو عبید رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کے قائل ہیں۔(سعودی فتوی کمیٹی) [1] ۔[صحیح صحیح ابو داود،ابوداود(4403) کتاب الحدود باب فی المجنون یسرق او یصیب حدا ابن ماجہ(2041) کتاب الطلاق المعنوہ والصغیر والنائم نسائی(3432) کتاب الطلاق باب من لا یقع طلاقہ من الازواج ارواء الغلیل(297) صحیح الجامع الصغیر(3512) المشکاۃ (3287)] [2] ۔[صحیح ،صحیح ابن ماجہ ابن ماجہ 2045۔کتاب الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی دارقطنی171۔170/4۔ابن حبان 7219۔طبرانی کبیر 10911مستدرک حاکم 198/2۔طحاوی فی شرح معانی الاثار 95/3۔بیہقی 356/7]