کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 427
جو شرعاً شوہر کا قائم مقام ہو۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) کیا عورت خود اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے؟ سوال:کتاب وسنت اس کی دلیل ہے کہ بیوی بھی طلاق دے سکتی ہے؟ جواب۔طلاق میں اصل تو یہی ہے کہ وہ شوہر کے ہاتھ میں ہے جیسا کہ قرآن میں ہے کہ: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ "اےنبی!(صلی اللہ علیہ وسلم)اپنی امت سے کہہ دو)جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت(کے دنوں کے آغاز)میں طلاق دو۔"[1] لیکن اگر شوہر کو اس طرح ا پنی بیوی کے سپرد کردے کہ وہ خود اپنے آپ کو طلاق دے پھر وہ اپنے آپ کو طلاق دے دے تو یوں طلاق واقع ہوجائے گی۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) طلاق کے لیے بیوی کی موجودگی یا اسے علم ہونا شرط نہیں:۔ سوال۔میری طلاق کو تین برس ہوچکے ہیں اور سب معاملات وکیل کے ذریعے مکمل ہوئے تھے میرے سابقہ خاوند نے بات چیت سے انکار کردیا تھا۔میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اس نےاب تک مجھے طلاق کا ایک کلمہ تک نہیں کہا،اب کچھ لوگ مجھے یہ کہتے ہیں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ میرے سامنے طلاق کا لفظ بولے۔میری گزارش ہے کہ آ پ اس کی وضاحت کریں کیونکہ مجھے اس سے بہت پریشانی ہے؟ جواب۔طلاق کے لیے یہ کوئی شرط نہیں کہ خاوند ا پنی بیوی کے سامنے طلاق کے الفاظ کہے اور نہ ہی یہ شرط ہے کہ بیوی کو اس کا علم ہو۔جب کبھی آدمی نے طلاق کے الفاظ بولے یا طلاق لکھ دی تو طلاق صحیح ہوگی اگرچہ اس کا بیوی کو علم نہ بھی ہو۔اگر آپ کے خاوند نے طلاق کے سارے معاملات وکیل کے پاس مکمل کیے ہیں تو یہ طلاق صحیح ہے اور واقع ہوچکی ہے۔ شیخ ابن عثمین رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ: [1] ۔[الطلاق۔1]