کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 426
صرف مرد کو حق طلاق دینے کی حکمت:۔ سوال۔اسلام نے طلاق کو صرف مرد کے ہاتھ میں کیوں دیاہے،اس کی کیا حکمت ہے؟ جواب۔اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر حق طلاق صرف شوہر کے ہاتھ میں رکھا ہے ان حکمتوں میں سے چند ایک کا ذکر حسب ذیل ہے: ( مرد قوت عقل واردہ،وسعت ادراک اور اُمور کے نتائج وعواقب تک رسائی حاصل کرنے میں عورت پر حاوی ہے،عورت اس طرح نہیں ہے۔ ( مرد خرچ کا ذمہ دار ہے اپنے گھر میں داروغہ ونگہبان ہے،امرونہی کرنے والا ہے گھر کا ستون اور اپنے خاندان کی کفالت کرنے والا ہے۔ ( مہر شوہر کے ذمہ واجب ہے لہذا حق طلاق اسی کے ہاتھ میں دیاگیا ہے تاکہ عورت طمع ولالچ میں نہ پڑ جائے۔(اگر حق طلاق عورت کے ہاتھ میں ہوتا تو)وہ شادی کرتی،مہر وصول کرتی اور دوسرا مہر حاصل کرنے کے لیے اس شوہر کو طلاق دے دیتی(تاکہ کسی اور سے نکاح کرکے اس سے مہر حاصل کرے)اور یہ چیز شوہر کے لیے نقصان کا باعث تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں اسی جانب متنبہ فرمایا ہے: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾ "مرد عورتوں پر حاکم ہیں،اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے اموال خرچ کیے ہیں۔"[1](سعودی فتویٰ کمیٹی) اگر بیوی اپنے شوہر کو طلاق دےدے:۔ سوال۔اگر بیوی اپنے شوہر کو طلاق دے دے تو اس پر کوئی کفارہ ہے؟ جواب۔اگر عورت اپنے شوہر کو طلاق دے دے تو طلاق واقع نہیں ہوگی اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ ہے۔البتہ وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرے۔کیونکہ اس کی طرف سے اپنے شوہر پر طلاق کاوقوع شرعی دلائل کے مخالف ہے۔بلاشبہ شرعی دلائل کاتقاضا یہ ہے کہ طلاق صرف شوہر کے ہاتھ میں ہو یا اس شخص کے ہاتھ میں [1] ۔[النساء۔34]