کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 421
طلاق کی مشروعیت سوال۔طلاق کی مشروعیت اور اس کا حکم کیا ہے؟اور یہ مشہور حدیث"اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسند یدہ چیز طلاق ہے"کیا صحیح ہے؟ جواب۔طلاق جائز اُمور میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ "اے نبی!(اپنی اُمت سے کہہ دو)جب تم عورتوں کوطلاق دو تو انہیں ان کی عدت(کے دنوں کے آغاز)میں طلاق دو۔"[1] اورفرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ "یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔" ایک اور آیت میں فرمایا: ﴿لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً﴾ "اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کیے طلاق دو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں۔"[2] اس کے جواز میں اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔لیکن یہ جائز نہیں کہ مرد اپنی بیوی کو بغیر کسی معقول وجہ کے طلاق دےدے،کیونکہ یہ جوازصرف یا تو بری معاشرت کی وجہ سے یا بیوی کے دینی نقص کی وجہ سے یا اس طرح کے دیگر اسباب کیوجہ سے ہی ہے۔ اور اہل علم نے طلاق کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا ہے: (۱)۔حرام۔ (۲)۔واجب۔ (۳)۔مکروہ۔ (۴)۔سنت۔ (۵)۔مباح طلاق جائز اس وقت ہوتی ہے جب اس کی ضرورت پیش آجائے۔مکروہ وہ ہے جو بغیر ضرورت کے دی جائے۔مستحب وہ ہے جوبیوی کے طلب کرنے پر دی جائے۔واجب اس وقت ہوتی ہے جب طلاق نہ دینے میں بیوی کا نقصان ہو مثلاً شوہر بیوی سے ایلاء کرلے اور چار ماہ کے بعد رجوع نہ کرے تو پھر یا تو اسے حسن [1] ۔[الطلاق۔1] [2] ۔[البقرہ:236]