کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 417
کے پاس ایک رات یا دو یا تین راتیں بسر کرتا ہے تو دوسری کے پاس بھی اتنی ہی راتیں بسر کرے اور کسی ایک کو بھی تقسیم میں دوسری پر فضیلت نہ دے۔[1] امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: بیویوں کے درمیان تقسیم میں برابری کرنے کے بارے میں ہمیں کسی اختلافکا علم نہیں اور اللہ تعالیٰ کا بھی فرمان ہے کہ"ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش اختیار کرو۔"[2] اس بنا پر آپ کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوا تقسیم میں برابری کرے اور بیوی کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاوند کو اس فعل کے بارے میں شرعی حکم بتائے اور اس کے اس فعل پر جو وعید بیا ن ہوئی ہے اچھے انداز میں اور حکمت کے ساتھ اس کے سامنے رکھے۔ہوسکتا ہے وہ اپنے متعلق کچھ سوچے اور اپنے اس فعل سے باز آجائے اور تقسیم میں عدل کرنے لگے۔یہ سب کچھ ان شاء اللہ علیحدگی سے بہتر ثابت ہوگا۔(شیخ محمد المنجد) [1] ۔مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ (32/269) [2] ۔المغنی لابن قدامۃ(8/138)