کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 413
اگر میں یہاں سات دن رہا تو اپنی باقی بیویوں کے پاس بھی سات سات دن رہوں گا۔"[1](شیخ محمدالمنجد) دونوں بیویوں کے اخراجات میں فرق ہوتو ان میں کیسے عدل کیاجائے؟ سوال۔میری دو بیویاں ہیں۔اور دونوں ہی علیحدہ علیحدہ مستقل گھروں میں رہائش پزیر ہیں،پوری کوشش کرتا ہوں کہ ان کے مابین مالی اُمور میں عدل وانصاف کروں،ان میں سے ایک کے پہلے بھی دو بچے ہیں،تو کیا ان کاخرچہ بھی مجھ پر واجب ہے؟اور یہ بھی ہے کہ مالی ضروریات(مثلاً،بجلی،گیس،اور نقل و حمل وغیرہ)بھی دونوں گھروں کی مختلف ہیں تو ان میں کیسے عدل وانصاف کروں؟ جواب۔بیویوں کے نان ونفقہ اور رات بسر کرنےمیں عدل کرنا واجب ہے لیکن جن ان میں سے کوئی ایک اپنے حق سے دستبردار ہوتے ہوئے اسے ختم کردے تو پھر اور بات ہے اسی طرح دونوں کی اولاد میں بھی عدل وانصاف سے کام لینا ہوگا۔ آپ کی بیوی کے پہلے بچوں کا خرچہ آپ پر واجب نہیں،لیکن اگر ان پر خرچ کرنے والا اور کوئی نہیں تو ان کا خرچہ عام مسلمانوں برداشت کریں گے اور آپ بھی ان عمومی مسلمانوں میں شامل ہوتے ہیں۔ اگرایک گھر کاخرچہ افراد زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسرے گھر سے مختلف ہوتواس میں کوئی حرج والی بات نہیں،لیکن خرچہ میں افراد کے ہی حساب سے زیادہ ہونی چاہیے ویسے نہیں۔(شیخ عبدالکریم) ایک بیوی کے باری والے دن میں دوسری کے بچوں کو پڑھانا:۔ سوال۔پہلی بیوی کی باری میں دن کےوقت دوسری بیوی کے بچوں کو پڑھانے کے لیے دوسری بیویکے پاس جانے کاکیا حکم ہے؟ جواب۔ایسا کرناجائز نہیں بلکہ بچوں کو اس بیوی کے پاس لایاجائے جس کی باری ہے(البتہ اگر بیوی خود دوسری [1] ۔[مسلم(1460) کتاب الرضاع باب قدر ما تستحقہ البکر ونشیب موطا(2/529) احمد(6/292) دارمی(2/144) ابو داود(2122) کتاب النکاح باب فی مقام عندالبکر ابن ماجہ(1917) کتاب المنکاح باب الاقامۃ عند البکر شرح معانی الآثار (3/28) ابو یعلیٰ(12/429) دارقطنی(3/284)الحلیۃ لابی نعیم(7/95) بیہقی(7/300)]