کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 409
ایک بیوی ہے جو ابھی تک اس کے پاس ہے۔اس شخص نے میری زندگی میں بہت زیادہ تعاون کیا اور اسلامی راستے کی رہنمائی کی ہے۔میرے والدین بھی مسلمان ہیں لیکن انہوں نے مجھے نہ نماز،نہ روزہ اور نہ ہی زکواۃ کے بارے میں کچھ بتایا اور نہ ہی تعلیم دی۔ یہ شخص مجھ سے دوسری شادی کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں دو بیویوں کے اخرجات برداشت کرنے کی طاقت نہیں اس نے اس مشکل کے بارے میں کچھ لوگوں سے دریافت کیا تو کچھ نے شادی کرلینے کی رائے دی اور کچھ نے نہ کرنے کی،میں اس شخص کا بہت زیادہ احترام کرتی ہوں لیکن مجھے یہ یقین نہیں کہ میں اس کے ساتھ زندگی گزار سکوں گی کہ نہیں۔اس کے بارے میں آپ ہی کچھ نصیحت کریں۔ جواب۔اللہ تعالیٰ نے مرد پر دوسری شادی کرنے سے قبل جو اشیاء لازم کی ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ نان ونفقہ رہائش اور بیویوں کے پاس رات بسر کرنے میں عدل وانصاف سے کام لے سکتا ہو۔اگر اسے علم میں ہوکہ وہ بیویوں کے درمیان ان اشیاء میں عدل وانصاف نہیں کرسکتا یا اس کا ظن غالب بھی یہی ہو کہ وہ انصاف نہیں کرسکے گا تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: "اور اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے ان میں عدل وانصاف نہیں کرسکو گےتو اور عورتوں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو،دودو تین تین چار چار سے لیکن اگر تمھیں عدل وانصاف اور برابری نہ کرسکنے کا خدشہ ہو تو ایک کافی ہے۔یا پھر تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیادہ قریب ہے کہ(ایسا کرنے سے ناانصافی اور)ایک طرف جھک جانے سے بچ جاؤ۔"[1] امام مجاہد کہتے ہیں کہ: "تم جان بوجھ کر برا سلوک کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ تقسیم اور نان نفقہ میں برابری اور انصاف کا التزام کرو کیونکہ اس چیزمیں انسان استطاعت ر کھتا ہے۔"[2] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کاکہنا ہے کہ: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے ہوئے بیویوں کے درمیان نان ونفقہ اور لباس میں برابری اور عدل سے کام لینا مسنون ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی بیویوں کے درمیان نان ونفقہ اور تقسیم میں عدل وانصاف کیا کرتے تھے۔"[3] [1] ۔[النساء۔3] [2] ۔دیکھئے ۔:تفسیر قرطبی(5/407)] [3] ۔[مجموع الفتاویٰ(32/269)]