کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 408
اس کی وجہ سے اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند سے آپ کی طلاق کا مطالبہ کرتی پھرے۔آپ صبر وتحمل سے کام لیں اور اس سے منہ پھیرے رکھیں اور اپنی استطاعت کے مطابق اس سے اچھا برتاؤ کریں اور پہلی بیوی کو بھی یہ علم ہونا چاہیے کہ اس کے لیے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مقدر میں لکھ دیا ہے وہ اسے مل کررہے گا۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان کو اس قول پر ختم کیا ہے کہ"اسے تو جو اس کے مقدر میں ہے ملے گا۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس بات کی طرف اشارہ ہے۔کہ اگر اس نے اس کا مطالبہ کیااور اس پر اصرار کیا اور یہ شرط رکھی تو وہ واقع نہیں ہوگی،لیکن وہی ہوگا۔جو اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا ہے۔[1](شیخ محمد المنجد) سوکن کی لعنت ملامت اور اس سے بدکلامی:۔ سوال۔جب کوئی عورت کسی شخص کی دوسری بیوی ہو اور پہلی بیوی اسے دھمکیاں دے اسے لعنت ملامت کرے اور اسے سلام تک نہ کرے،لیکن جب لوگوں کے سامنے ہوتو منہ رکھنے کے لیے سلام یا کچھ کلام کرلے تو اس حالت میں کیا کرنا چاہیے؟میں ایک شخص کی نوبرس سے دوسری بیوی ہوں اور پہلی بیوی کا شادی کا عرصہ مجھ سے بھی زیادہ ہے۔ جواب۔اس عورت کو چاہیے کہ وہ صبر کرے اور برائی کا جواب برائی سے نہ دے بلکہ اس کے ساتھ نرم رویہ رکھتے ہوئے اس کے جذبات کو ٹھنڈا کرے۔اور اگرممکن ہوسکے تو آ پ اسے ایک موثر قسم کا خط لکھیں جس میں پیار ومحبت کا اظہار ہویہ بہت ہی بہتر ہے۔اگر وہ پھر بھی ویسا ہی رویہ رکھے تو اس کا وبال آپ پر نہیں۔آپ کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر عمل کرتی رہیں۔ "برائی کو اچھائی سے روکو نتیجتاً وہی جو آپ کا دشمن ہے آپ کا دلی دوست بن جائے گا۔"[2] اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔(شیخ عبدالکریم) دو بیویوں کے اخراجات کی طاقت نہ ہونے کے باوجود دوسری شادی کرنا:۔ سوال۔میرے لیے ایک مسلمان شخص کا رشتہ آیاہے جس کی عمر مجھ سے بیس برس زیادہ ہے اس کی پہلے بھی [1] ۔[فتح الباری(9/275)] [2] ۔[فصلت ۔34]