کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 401
"بلاشبہ اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"[1] 3۔اگر عورت کواس دوسری شادی کی وجہ سے غصہ آجائے اور وہ اپناغصہ پی لے اور زبان سے کچھ نہ کہے تو اسے اس غصہ پی جانے کی وجہ سے اجروثواب حاصل ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ "اور(جنتی لوگ)غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں،اور اللہ تعالیٰ(ان)احسان کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔" اس طرح عام حالت میں اپنے شوہر کی اطاعت کرنے والی بیوی کے اجروثواب سے زیادہ اسے یہ اجرثواب حاصل ہوگا۔اور ایک عقل مند عورتکے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہوجائے اور اسے یہ علم ہونا چاہیے کہ خاوند کے لیے دوسری شادی اللہ تعالیٰ نے جائزکی ہے اس وجہ سے اسے اس پر اعتراض کا کوئی حق نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی دوسری شادی میں اس کے لیے مزید پاکدامنی ہوجو اسے حرام کام میں پڑنے سے روکے۔اور یہ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے۔کہ بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو اپنے خاوندکے حرام کام کرنے پر تو بہت کم اعتراض کرتی ہیں لیکن اگر وہ حلال کام کرتے ہوئے دوسری شادی کرے تو اس پر ان کااعتراض بہت زیادہ ہوتاہے اور یہی ان کی عقل ودین کی کمی کی نشانی ہے۔ مسلمان عورت کے لیے ضروری ہے کہ اپنے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی بیویوں کو اسوہ بنائے اور یاد رکھے کہ ان میں سے بہت ساری عورتوں نے غیرت کےباوجود صبر کیا اور اجروثواب کی نیت کی،تو اگر آپ کا خاوند دوسری شادی کرنا چاہتاہے تو آپ اس پر صبر کریں اور رضا مندی کااظہار کرتے ہوئے اس پر احسان کریں تاکہ آپ کو احسان اورصبر کرنے والوں کااجر حاصل ہوا اورآپ کے علم میں یہ بھی ہونا چاہیے کہ زندگی امتحان اور آزمائش کا ہی نام ہے۔اور یہ بہت جلد ختم ہونے والی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس جنت کی فکر کرنی چاہیے جس کی صبر کرنے والوں کی خوش خبری دی گئی ہے۔(شیخ محمد المنجد) مزید اولاد کی خاطر دوسری شادی:۔ سوال۔گزشتہ دو برس سے میری بیو ی نے آپریشن کروادیاہے تاکہ بچے پیدا نہ ہوسکیں اس نے یہ سب کچھ ڈاکٹر [1] ۔[ا لعنکبوت۔69]