کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 396
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ تعدد زوجات کے لیے عدل شرط ہے اور اگر آدمی کو پہلے ہی یہ خدشہ ہوکہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی صورت میں عدل وانصاف نہیں کرسکے گا تو پھر اس کے لیے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا منع ہے۔اور تعدد کے جواز کے لیے جو عدل مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ا پنی بیویوں کے درمیان نفقہ،لباس اور رات بسر کرنے وغیرہ اور مادی اُمور جن پر اس کی قدرت ہے،میں عدل سے کام لے۔ تاہم محبت میں عدل کے بارے میں وہ مکلف نہیں اور نہ ہی اس سے چیزکامطالبہ ہے اور نہ ہی وہ اس کی طاقت رکھتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمادیا ہے: ﴿وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ﴾ "اور تم ہرگز عورتوں کے درمیان عدل نہیں کرسکتے اگرچہ تم اس کی کوشش بھی کرو۔"[1] 2۔خرچ کی طاقت: اس شرط کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهِ﴾ "اور ان لوگوں کو پاکدامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کردے۔"[2] اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم دیا ہے کہ جو بھی نکاح کرنےکی طاقت نہ رکھتا ہو اور اسے کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا ہوتو وہ پاکبازی اختیار کرے۔نکاح میں رکاوٹ بننے والی اشیاء میں یہ چیزیں شامل ہیں جس کے پاس نکاح کرنے کے لیے مہر کی رقم نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس اتنی قدرت ہو کہ وہ شادی کے بعد ا پنی بیوی کاخرچہ برداشت کرسکے۔(شیخ محمدالمنجد) چار عورتوں سے زیادہ کو نکاح میں رکھنا:۔ سوال۔کیا مرد چار عورتوں سے زیادہ کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے یا نہیں اور اس کی کیادلیل ہے؟ جواب۔مرد کے لیے چار عورتوں سے زیادہ کو بیک وقت اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔اس کی دلیل ایک تو یہ [1] ۔النساء۔129۔ [2] ۔النور ۔33۔