کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 391
ایک سے زیادہ شادیوں کاحکم اور حکمت سوال۔حقیقی طور پر میں اسلام کی رغبت رکھتی تھی اس لیے میں نے اسلامی لٹریچر پڑھنا شروع کیا لیکن اس کی بعض چیزیں پڑھ کر میں بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہوگئی ہوں اور وہ مجھے اسلام سے بھی دور لے گئی ہیں جن میں سے ایک ہے"ایک سے زیادہ عورتوں سے شاد ی کرنا"میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے بتائیں قرآن مجید میں اس کا بیان کس جگہ کیا گیا ہے؟میری یہ بھی گزارش ہے کہ آپ میرے لیے چند ایک ہدایات بھی ارسال کریں جو میری صحیح زندگی گزارنے میں معاون بن سکیں تاکہ میں صحیح ر استے سے بھٹک نہ جاؤں۔ جواب۔اللہ تعالیٰ نے رسالت کو دین اسلام کے ساتھ ختم کیا ہے اور یہ وہی دین اسلام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور دین قابل قبول نہیں۔لہذا آپ کا دین اسلام کو قبول نہ کرنا اور اس سے دور ہوجانا آپ کے لیے بہت ہی بڑا خسارہ شمار ہوگا اور سعادت مندی کی زندگی بھی آپ سے چھن جائے گی۔اس لیے ہم یہی کہیں گے کہ جتنی جلدی ہوسکے آپ اسلام قبول کرلیں۔اور اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر نہ کریں کیونکہ اسلام قبول کرنے میں تاخیر کا انجام اچھا نہیں۔اور آپ نے جو یہ کہاہے کہ آپ کا اسلام سے دور ہٹنے کا سبب"تعددزوجات" ہے تو اس کے بارے میں سب سے پہلے تو ہم حکم بیان کریں گے،پھر اس کی حکمت اورغرض وغایت۔ 1۔تعدد زوجات کا حکم: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا ہے: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴾ "اور اگر تمھیں یہ خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف نہیں کرسکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو دو دو تین تین چار چار سے لیکن اگر تمھیں برابری اور عدل نہ کرسکنے کا خوف ہو وتو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی یہ زیادہ قریب ہے کہ تم ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ۔"[1] زیادہ شادیوں کے جواز میں یہ آیت نص ہے۔لہذا شریعت اسلامیہ میں یہ جائز ہے کہ انسان ایک عورت یا دو یا [1] ۔[النساء۔3]