کتاب: فتاوی نکاح و طلاق - صفحہ 387
پس(تیس ماہ سے)دودھ چھڑانے کی مدت دو سال یعنی چوبیس ماہ نکال دیئے جائیں تو باقی چھ ماہ رہ جاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے حمل کی مدت قرار دیا ہے تو)اس سے ثابت ہوا کہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔لہذا اگر عورت ساتویں ماہ یا اس کے بعد والے مہینوں میں بچے کو جنم دے دے تو اس میں(اس پر)کوئی شک والی بات نہیں۔اللہ تعالیٰ ہی توفیق بخشنے والا ہے۔(شخ ابن باز رحمۃ اللہ علیہ) سعودی مستقل فتویٰ کمیٹی نے بھی اسی طرح کافتویٰ دیا ہے۔ دوران حمل نکاح کا حکم:۔ سوال۔حاملہ عورت سے عقد نکاح کا کیا حکم ہے کیا یہ جائز ہے یا باطل؟ جواب۔حاملہ عورت کو طلاق ہوئی ہو یا اس کا شوہر فوت ہوا ہو اس کی عدت وضع حمل ہے۔کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ "اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔"[1] اورایسی عورت کے ساتھ عقد نکاح باطل ہے اور نکاح کی تکمیل ممکن نہیں۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) دوران حمل ہم بستری کا حکم:۔ سوال۔کیا حاملہ عورت کے ساتھ ہم بستری جائز ہے؟ جواب۔حاملہ عورت کے ساتھ ہم بستری جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صرف دوران حیض ونفاس اور بحالت احرام ہی ہم بستری سے منع کیا ہے۔(سعودی فتویٰ کمیٹی) بچے کی ولادت کے دوران کیا شوہر بیوی کو دیکھ سکتا ہے؟ سوال۔کیا خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ بیوی کی زچگی کے وقت ا س کے پاس رہے اور اس کا مشاہدہ کرے؟ [1] ۔[الطلاق۔4]